بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنگ میں خاص علامت کے اختیار کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل جنگ میں خاص علامت کے اختیار کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2488 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، أَبِي عُمَيْسٍ ، إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:"بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ، فَكَانَ شِعَارُنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَمِتْ، يَعْنِي: اقْتُلْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک شخص سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس کا مال و متاع دے دیا اور اس دن سیدنا خالد بن الوليد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہمارا کوڈ ورڈ تھا امت یعنی اقتل (قتل کر ڈالو)۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2488]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2495] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2596] ، [ابن حبان 4839]
وضاحت
(تشریح حدیث 2487)
اس حدیث میں شعار کا مطلب وہ علامت یا کلمہ ہے جس سے فوجی ایک دوسرے کو پہچان لیں، اور اشتباه نہ ہو، اور بھائی بھائی کو قتل نہ کر ڈالے۔
شبِ خون کے وقت ایسا ہو سکتا ہے اس لئے کوڈ ورڈ مقرر کر لیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکور بالا حدیث میں «أَمِتْ» کا لفظ ہے۔
دوسری احادیث میں «حم لا ينصرون» اور دیگر الفاظ آتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه