بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دشمن پر حملہ کرنے کے وقت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل دشمن پر حملہ کرنے کے وقت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2482 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، وَكَانَ يَسْتَمِعُ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا، أَمْسَكَ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا، أَغَارَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نمازِ فجر کے وقت (دشمن پر) حملہ کرتے تھے اور سننے کی کوشش کرتے تھے، اگر (فجر کی) اذان سن لیتے تو پھر حملہ نہ کرتے اور اذان سنائی نہ دیتی تو پھر حملہ کر دیتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2489] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 610] ، [مسلم 382] ، [أبوداؤد 2634] ، [ترمذي 1618] ، [أبويعلی 3307]
وضاحت
(تشریح احادیث 2479 سے 2482)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس بستی میں مسلم اور غیر مسلم ایک ساتھ رہتے ہوں اس پر حملہ کرنا درست نہیں۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه