بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
امام کا فوجی دستے کو رخصت کرتے وقت وصیت کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی سیر کے مسائل امام کا فوجی دستے کو رخصت کرتے وقت وصیت کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2476 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَبِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، وَقَالَ: "اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سلمان بن بریدہ نے اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا: انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی پلٹن کا امیر مقرر فرماتے تو اسے وصیت کرتے تھے کہ وہ خود اللہ کا تقوی اختیار کریں اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ بھی اللہ سے ڈرتے ہوئے اچھا سلوک کریں، نیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے: اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستے میں جہاد کرو، جو اللہ کا انکار کرے اس سے جنگ کرو، جہاد کرو لیکن غداری نہ کرو، اور نہ خیانت کرو، نہ مثلہ کرو، اور نہ بچے کو مارو۔ [سنن دارمي/من كتاب السير/حدیث: 2476]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2483] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1731] ، [أبوداؤد 2613] ، [ترمذي 1617] ، [ابن ماجه 2858] ، [أبويعلی 1413] ، [ابن حبان 4739]
وضاحت
(تشریح حدیث 2475)
ناک کان، دل جگر، ہاتھ پاؤں کاٹ کر الگ الگ کر دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔
اس حدیث سے لشکرکشی ثابت ہوئی، اور روانگی کے وقت نصیحت کرنا بھی ثابت ہوا، نیز یہ کہ امیر اورمجاہدین راہِ جہاد میں تقویٰ و خلوص اختیار کریں، اور بدعہدی، غداری، خیانت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دور رہنے کی تلقین کی ہے، نیز جوش و غضب میں آ کر میت کی بے حرمتی سے یعنی مثلہ کرنے سے بھی منع کیا، اور نابالغ بچوں کے قتل سے بھی، دوسری احادیث میں عورتوں اور بوڑھوں کا بھی اضافہ ہے۔
یہ اسلام کے وہ زریں اصولِ حرب ہیں جو اسلام کو معتدل، حقیقت پسندانہ مذہب بتاتے ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح