بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اللہ کے راستے میں صبح یا شام کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کتاب جہاد کے بارے میں اللہ کے راستے میں صبح یا شام کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 2435 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں گذرنے والی ایک صبح یا اللہ کے راستے میں گذرنے والی ایک شام دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الجهاد/حدیث: 2435]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2443] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2794] ، [مسلم 1881] ، [نسائي 3118] ، [أبويعلی 7514]
وضاحت
(تشریح حدیث 2434)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی صبح یا شام کو اللہ کے راستے میں جہاد کرے تو وہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے، اس سے جہاد فی سبیل اللہ کی فضیلت معلوم ہوئی جس کا دنیا میں کوئی بدل نہیں، واضح رہے کہ صبح و شام گشت کے لئے نکلنا اس میں داخل نہیں کیونکہ فی سبیل اللہ سے مراد جہاد ہے جس میں جان و مال اللہ کی نذر کرنے کی توقع ہوتی ہے۔
الحكم: الحديث متفق عليه