بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی دیت کے مسائل کوئی آدمی کسی کے گھر میں بلا اجازت جھانکے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2421 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرَى يُخَلِّلُ بِهَا رَأْسَهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنَيْكَ". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے کے ایک سوراخ سے اندر جھانکنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں اس وقت لوہے کا کنگھا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سر جھاڑ رہے تھے، اس شخص کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جھانکتے دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے علم ہوتا کہ تم مجھے دیکھ رہے ہو تو میں اس کنگھے کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اذن لینے کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ نظر نہ پڑے۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2421]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2429] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5924، 6901] ، [مسلم 2156] ، [ترمذي 2709] ، [نسائي 4874] ، [أبويعلی 7510] ، [ابن حبان 5809] ، [مسند الحميدي 953]
الحكم: حديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2422 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَةٍ وَمَعَهُ مِدْرى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، اطَّلَعَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَقُمْتُ حَتَّى أَطْعَنَ بِهِ عَيْنَيْكَ. إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجرے میں لوہے کے کنگھے سے بال جھاڑ رہے تھے کہ ایک صحابی اندر جھانکنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے علم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں کھڑا ہو کر اس کنگھے کو تمہاری آنکھ میں چبھو دیتا، اجازت لینے کا نظر ہی کی وجہ سے حکم دیا گیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الديات/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2430] »
اس حدیث کا حوالہ اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 2420 سے 2422)
جب بغیر اجازت دیکھ لیا تو پھر اذن و اجازت کی کیا ضرورت رہی۔
اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی کے گھر میں جھانکے اور گھر والا کچھ پھینک کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو اس گھر والے کو کچھ تاوان نہیں دینا ہوگا، بلا اجازت تاک جھانک کی یہ بہت بھیانک سزا ہے، لہٰذا کسی کے گھر میں بلا اجازت نظر ڈالنا یا داخل ہونا منع ہے، اس لئے کسی بھی غیر کے گھر میں اجازت لے کر، سلام کر کے داخل ہونا چاہئے یہ اسلامی آداب میں سے ہے، جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: «﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا ......﴾ [النور: 27] » ترجمہ: اے مومنو! اپنے گھروں کے سوا اور گھروں میں نہ جاؤ جب تک کہ اجازت نہ لے لو، اور وہاں رہنے والوں کو سلام کرو۔
الحكم: إسناده صحيح والحديث متفق عليه