بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جو آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حدود کے مسائل جو آدمی اپنی بیوی کی لونڈی سے زنا کرے اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2366 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَتَادَةَ ، خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ: أَنَّ غُلَامًا كَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا، فَوَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهِ بِقَضَاءٍ شَافٍ: "إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جَلَدْتُهُ مِائَةً، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تُحِلَّهَا لَهُ، رَجَمْتُهُ"، فَقِيلَ لَهَا: زَوْجُكِ!، فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَحْلَلْتُهَا لَهُ. فَضَرَبَهُ مِائَةً. قَالَ يَحْيَى: هُوَ مَرْفُوعٌ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ ایک لڑکا جس کا نام قرقور تھا وہ اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر بیٹھا، یہ معاملہ (صحابی رسول) سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ (جو کوفہ کے حاکم تھے)، کے پاس لے جایا گیا، انہوں نے کہا: میں اس بارے میں شافی فیصلہ کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اپنی لونڈی کو اس کے لئے حلال کر دیا ہو تو میں اس غلام کو سو کوڑے رسید کروں گا، اور اگر اس کی بیوی نے اس کو اس کی اجازت نہ دی ہو تو میں اس غلام کو رجم کر دوں گا، اس عورت سے پوچھا گیا: تم اپنے شوہر کیلئے کیا کہتی ہو، اس عورت نے کہا: میں نے اپنی لونڈی کو اپنے شوہر کے لئے حلال کر دیا تھا (یعنی اس سے جماع کی اجازت دیدی تھی)، چنانچہ سیدنا نعمان رضی اللہ عنہ نے اس کو سو کوڑے لگائے۔
یحییٰ بن حماد (شیخ الدارمی) نے کہا: یہ مرفوع ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2366]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف موقوفا، [مكتبه الشامله نمبر: 2374] »
اس روایت کی سند ضعیف و موقوف ہے اور مرفوع کہنا صحیح نہیں ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4458] ، [ترمذي 1451] ، [نسائي 3360] ، [ابن ماجه 2551] ، [أحمد 276/4]
وضاحت
(تشریح احادیث 2364 سے 2366)
مرد اپنی لونڈی سے جماع کر سکتا ہے کسی اور کی لونڈی سے نہیں، میاں بیوی کی لونڈی اگر مشترک ہو تو بھی مرد کے لئے اس لونڈی سے جماع کرنا جائز ہے جیسا کہ ابن ماجہ کی حدیث (2552) میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے وطی کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو حد نہیں لگائی۔
اس حدیث کے پیشِ نظر اکثر علماء نے کہا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرے تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ میاں بیوی کے املاک اکثر مشترک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی ملک سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اس لئے اس میں شبہ پڑ گیا اور حدیث کا قاعدہ ہے «إِدْرَؤُوا الْحُدُوْدَ بِالشُّبُهَاتِ.» شبہ پڑ جائے تو حدود کو ہٹادو۔
نیز یہ کہ مذکورہ بالا حدیث ضعیف بھی ہے اور احتمال ہے کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو دھوکہ ہوا ہو۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف موقوفا
حدیث نمبر: 2367 سنن دارمی
صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس روایت کو صدقہ بن الفضل نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاحدود/حدیث: 2367]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف خالد بن عرفطه، [مكتبه الشامله نمبر: 2375] »
اس روایت کی سند میں خالد بن عرفطہ ضعیف ہیں۔ تخریج کیلئے دیکھئے: [أبوداؤد 4459] ، [ترمذي 1451] ، [ابن ماجه 2551] ، [أحمد 277/4] ، [طيالسي 1529] ۔ اور ترمذی و طیالسی کی سند میں خالد بن عرفطہ کا ذکر نہیں ہے، اس صورت میں ابوبشر کا لقا حبیب بن سالم سے ثابت نہیں، لہٰذا سند میں انقطاع ہے۔
بہر حال یہ روایت بھی ضعیف ہے، اس لئے صحیح یہی ہے کہ بیوی کی لونڈی سے جماع کرنے پر کوئی حد نہیں۔ واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خالد بن عرفطه