بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ثیبہ اور کنواری لڑکی سے شادی کرے تو کتنے دن اس کے پاس رہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل ثیبہ اور کنواری لڑکی سے شادی کرے تو کتنے دن اس کے پاس رہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2246 سنن دارمی
يَعْلَى ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لِلْبِكْرِ سَبْعٌ، وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کنواری کے لئے سات دن اور ثیبہ کے لئے تین دن ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2246]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق قد عنعن ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2255] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5213] ، [مسلم 1461] ، [أبوداؤد 2124] ، [ترمذي 1139] ، [ابن ماجه 1916] ، [أبويعلی 2823] ، [ابن حبان 4208]
وضاحت
(تشریح حدیث 2245)
شادی شدہ یا شوہر دیدہ عورت (ثیبہ) سے شادی کی ہو تو اس کے پاس متواتر تین دن تک رہنا اور کنواری لڑکی سے شادی کی ہو تو دوسری بیویوں کی موجودگی میں اس کے پاس سات دن تک متواتر رہنے کا حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معمول تھا، کیونکہ نئی بیوی خصوصاً کنواری لڑکی شروع میں وحشت زدہ ہوتی ہے، اتنے دن قیام سے اس کی وحشت دور ہو کر یگانگت اور انسیت بڑھے گی، پھر اس کے بعد سب کے ساتھ باری باری رہے تاکہ انصاف کے خلاف نہ ہو۔
الحكم: رجاله ثقات غير أن محمد بن إسحاق قد عنعن ولكن الحديث متفق عليه
حدیث نمبر: 2247 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ، سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو تین دن ان کے پاس رہے اور فرمایا: تمہارا درجہ میرے نزدیک کم نہیں ہے، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن تک رہ سکتا ہوں، پھر ہر بیوی کے ساتھ ایسے ہی سات سات دن تک رہوں گا۔ (اور پھر سب کے بعد تمہاری باری آئے گی، لیکن انہوں نے کہا: سب کے پاس باری باری ایک ایک دن رہ کر میرے پاس آیئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2256] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1460] ، [أبوداؤد 2122] ، [ابن ماجه 1917] ، [أبويعلی 6996] ، [ابن حبان 4210]
وضاحت
(تشریح حدیث 2246)
اس حدیث سے بھی پہلی حدیث کی تائید ہوتی ہے کہ ثیبہ کے پاس تین دن اور باکرہ کے پاس سات دن قیام رہنا چاہیے، پھر سب بیویوں کے درمیان باری باری متساوی تقسیم ہونی چاہیے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم میرے نزدیک کم درجہ نہیں غالباً ان کی دلجوئی کے لئے تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی شوہر کی وفات کے بعد شادی کی تھی جن سے وہ بہت محبت کرتی تھیں۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سارے کام چھوڑ کر پورے مہینے ہنی مون منانا بھی درست نہیں، جس کو عربی زبان میں شہر العسل کہتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح