بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2247 — ثیبہ اور کنواری لڑکی سے شادی کرے تو کتنے دن اس کے پاس رہے؟
کتب سنن دارمی نکاح کے مسائل ثیبہ اور کنواری لڑکی سے شادی کرے تو کتنے دن اس کے پاس رہے؟ حدیث 2247
حدیث نمبر: 2247 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أُمِّ سَلَمَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ، أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: "إِنَّهُ لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ، سَبَّعْتُ لَكِ، وَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ، سَبَّعْتُ لِسَائِرِ نِسَائِي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو تین دن ان کے پاس رہے اور فرمایا: تمہارا درجہ میرے نزدیک کم نہیں ہے، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن تک رہ سکتا ہوں، پھر ہر بیوی کے ساتھ ایسے ہی سات سات دن تک رہوں گا۔ (اور پھر سب کے بعد تمہاری باری آئے گی، لیکن انہوں نے کہا: سب کے پاس باری باری ایک ایک دن رہ کر میرے پاس آیئے)۔ [سنن دارمي/من كتاب النكاح/حدیث: 2247]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2256] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1460] ، [أبوداؤد 2122] ، [ابن ماجه 1917] ، [أبويعلی 6996] ، [ابن حبان 4210]
وضاحت
(تشریح حدیث 2246)
اس حدیث سے بھی پہلی حدیث کی تائید ہوتی ہے کہ ثیبہ کے پاس تین دن اور باکرہ کے پاس سات دن قیام رہنا چاہیے، پھر سب بیویوں کے درمیان باری باری متساوی تقسیم ہونی چاہیے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ تم میرے نزدیک کم درجہ نہیں غالباً ان کی دلجوئی کے لئے تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی شوہر کی وفات کے بعد شادی کی تھی جن سے وہ بہت محبت کرتی تھیں۔
ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سارے کام چھوڑ کر پورے مہینے ہنی مون منانا بھی درست نہیں، جس کو عربی زبان میں شہر العسل کہتے ہیں۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2246) باب پر واپس اگلی حدیث (2248) →