بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
پینے کی چیز میں پھونک مارنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مشروبات کا بیان پینے کی چیز میں پھونک مارنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2170 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ ، أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ ، لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ مَرْوَانُ لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ: هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ؟ قَالَ:"نَعَمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان بن الحکم نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی میں پھونک مارنے سے منع کرتے تھے؟ فرمایا: ہاں (سنا ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2179] »
اس حدیث کی سند قوی ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1887]
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2171 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نَهَى عَنْ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مشروب میں پھونکنے سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاشربة/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2180] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3728] ، [ترمذي 1888] ، [ابن ماجه 3428] ، [أبويعلی 2402] ، [ابن حبان 5316] ، [الحميدي 535] ، [بغوي فى شرح السنة 3035]
وضاحت
(تشریح احادیث 2169 سے 2171)
ان احادیث میں پانی یا کسی اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے گریز کرنے کا حکم ہے۔
مبادا منہ سے کچھ گرے اور پانی میں پڑ کر اسے ملوث کر دے، جس سے دوسروں کو تکلیف یا نفرت و کراہت ہو۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح