بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کھجور کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب کھجور کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2097 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ ، أَبِي الرِّجَالِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"يَا عَائِشَةُ، بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ جِيَاعٌ أَهْلُهُ أَوْ جَاعَ أَهْلُهُ"مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ بھوکے ہیں۔ ایسا دو یا تین بار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2097]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2104] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2046] ، [أبوداؤد 3831] ، [ابن حبان 5206]
وضاحت
(تشریح حدیث 2096)
جو گھر کھجور سے خالی ہو ان کو آسودگی نہیں، ایسا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اہلِ مدینہ کے حق میں فرمایا جن کی غذا کھجور تھی، آج جدید سائنس و طبِ حدیث سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کھجور کے اندر بھرپور غذائیت اور ایک کیمیاوی مادہ پایا جاتا ہے جو زہر تک کا تریاق ہے، اور یہ انسانی جسم کو وٹامنز سے بھر دیتی اور جسم کو فربہ کرتی ہے، جنسی قوت بڑھاتی ہے، طبِ یونانی میں معجون خرما بہت مشہور ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2098 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَا يَجُوعُ أَهْلُ بَيْتٍ عِنْدَهُمْ التَّمْرُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایسے گھر والے بھوکے نہیں رہ سکتے جن کے گھر میں کھجور موجود ہو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2098]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2105] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2046] ، [أبوداؤد 3830] ، [ترمذي 1815] ، [ابن ماجه 3327]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2099 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: "أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَأَخَذَ يُهَدِّيهِ". وَقَالَ:"رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ تَمْرًا مُقْعِيًا مِنْ الْجُوعِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُهَدِّيهِ: يَعْنِي: يُرْسِلُهُ هَهُنَا وَهَهُنَا..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھجور ہدیہ کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ادھر ادھر (یعنی پاس پڑوس میں) تقسیم کر دیں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھوک کی وجہ سے اکڑوں بیٹھ کر کھجور تناول فرما رہے تھے۔ امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «يُهَدِّيْهِ» کا مطلب ہے اس کھجور کو ادھر ادھر بھیج دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2106] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2044، 2046] ، [أبوداؤد 3771] ، [ترمذي فى الشمائل 144] ، [نسائي فى الكبرىٰ 6744]
وضاحت
(تشریح احادیث 2097 سے 2099)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا اکڑوں یا ایک پیر پر بیٹھ کر کھانا چاہے، اس طرح سے زیادہ نہیں کھایا جاتا اور پیٹ نہیں نکلتا ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تواضع بھی معلوم ہوئی کہ دنیا داروں کی طرح پھیل اور پالتی مار کر نہیں کھاتے تھے، اور ہدیہ قبول فرما لیتے تھے، اور خود بھی دوسروں کو ہدیہ تحفہ دیتے تھے، لے لے کر اپنے لئے ہی رکھتے نہ تھے۔
(فداہ أبی وأمی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )۔
الحكم: إسناده صحيح