بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2099 — کھجور کی فضیلت کا بیان
کتب سنن دارمی کھانا کھانے کے آداب کھجور کی فضیلت کا بیان حدیث 2099
حدیث نمبر: 2099 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو نُعَيْمٍ ، مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: "أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَأَخَذَ يُهَدِّيهِ". وَقَالَ:"رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ تَمْرًا مُقْعِيًا مِنْ الْجُوعِ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يُهَدِّيهِ: يَعْنِي: يُرْسِلُهُ هَهُنَا وَهَهُنَا..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں کھجور ہدیہ کی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ادھر ادھر (یعنی پاس پڑوس میں) تقسیم کر دیں، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھوک کی وجہ سے اکڑوں بیٹھ کر کھجور تناول فرما رہے تھے۔ امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے کہا: «يُهَدِّيْهِ» کا مطلب ہے اس کھجور کو ادھر ادھر بھیج دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الاطعمة/حدیث: 2099]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2106] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2044، 2046] ، [أبوداؤد 3771] ، [ترمذي فى الشمائل 144] ، [نسائي فى الكبرىٰ 6744]
وضاحت
(تشریح احادیث 2097 سے 2099)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کھانا اکڑوں یا ایک پیر پر بیٹھ کر کھانا چاہے، اس طرح سے زیادہ نہیں کھایا جاتا اور پیٹ نہیں نکلتا ہے، اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تواضع بھی معلوم ہوئی کہ دنیا داروں کی طرح پھیل اور پالتی مار کر نہیں کھاتے تھے، اور ہدیہ قبول فرما لیتے تھے، اور خود بھی دوسروں کو ہدیہ تحفہ دیتے تھے، لے لے کر اپنے لئے ہی رکھتے نہ تھے۔
(فداہ أبی وأمی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (2098) باب پر واپس اگلی حدیث (2100) →