بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
درندے کھانے جائز نہیں ہیں
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں درندے کھانے جائز نہیں ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 2019 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر دانت (کیلے) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2023] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5530] ، [مسلم 1932] ، [أبوداؤد 3802] ، [ترمذي 1477] ، [نسائي 4336] ، [ابن ماجه 3232] ، [ابن حبان 5279] ، [مسند الحميدي 899] ، [طبراني 208/22] ، [بيهقي معرفة السنن والآثار 19198]
وضاحت
(تشریح حدیث 2018)
ذی ناب سے مراد ایسے دانت ہیں جن سے درندہ جانور یا پرندہ اپنے شکار کو زخمی کر کے پھاڑ دیتا ہے۔
(راز)۔
اکثر اہلِ حدیث اور ائمہ کا یہی قول ہے کہ ہر دانت (کیلے) والا درندہ جو دانت سے شکار پکڑتا ہے اور حملہ کرتا ہے حرام ہے، جیسے: بھیڑیا، شیر، کتا، چیتا، اور ریچھ، بلی وغیرہ۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: کفتار (لکڑ بگڑ) اور لومڑی حلال ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: درندوں کی طرح یہ بھی حرام ہیں، اسی طرح گیڈر اور بوربچہ وغیرہ (بھی حرام ہے)، (وحیدی)۔
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 2020 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، أَبُو أُوَيْسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ابْنُ عَمِّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَطْفَةِ، وَالْمُجَثَّمَةِ، وَالنُّهْبَةِ، وَعَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (شکار) اُچکن والے جانور، اور جانور کو باندھ کر مارنے سے، اور لوٹ مار سے، اور دانت والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2024] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [طبراني 209/22] ، [بيهقي 334/9] ۔ ابواویس کا نام اس سند میں عبداللہ بن عبداللہ بن اویس ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 2019)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوری، ڈکیتی، لوٹ مار کا مال کھانا حرام ہے، اور یہ تمام افعال بہت مذموم ہیں، اور اسلام میں اس کی بڑی سخت سزا ہے۔
چور کے ہاتھ پیر کاٹ دیئے جائیں، ڈاکوؤں اور رہزنوں کے لئے اور بھی سنگین سزائیں مقرر کی گئی ہیں تاکہ نوع انسانی امن و امان کی زندگی بسر کر سکے۔
انہیں قوانین کی برکت سے سعودیہ میں امن و امان قائم ہے جو ساری دنیا کے لئے مثالی حیثیت رکھتا ہے۔
مجثمہ کا ذکر گذر چکا ہے اور وہ بھی کھانا حرام ہے، اسی طرح درندوں کا گوشت بھی حرام ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2021 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ، وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنْ الطَّيْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر دانت والے درندے اور ہر پنجے (سے شکار کرنے) والے درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا (یعنی جو پنجے سے شکار کرے جیسے باز، شکرہ، بحری گدھ وغیرہ اور اس میں چیل و گدھ بھی شامل ہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2021]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2025] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1934] ، [أبوداؤد 3803] ، [نسائي 4359] ، [أبويعلی 2414] ، [ابن حبان 5280]
وضاحت
(تشریح حدیث 2020)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جو پرندے پنجے سے شکار کرتے ہیں یا وہ درندے جو دانتوں سے گوشت پھاڑ ڈالتے ہیں ان کا کھانا حرام ہے۔
الحكم: إسناده صحيح