بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 2019 — درندے کھانے جائز نہیں ہیں
کتب سنن دارمی قربانی کے بیان میں درندے کھانے جائز نہیں ہیں حدیث 2019
حدیث نمبر: 2019 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، قَالَ:"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر دانت (کیلے) والے درندے کے کھانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الاضاحي/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قوي، [مكتبه الشامله نمبر: 2023] »
اس روایت کی سند قوی اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5530] ، [مسلم 1932] ، [أبوداؤد 3802] ، [ترمذي 1477] ، [نسائي 4336] ، [ابن ماجه 3232] ، [ابن حبان 5279] ، [مسند الحميدي 899] ، [طبراني 208/22] ، [بيهقي معرفة السنن والآثار 19198]
وضاحت
(تشریح حدیث 2018)
ذی ناب سے مراد ایسے دانت ہیں جن سے درندہ جانور یا پرندہ اپنے شکار کو زخمی کر کے پھاڑ دیتا ہے۔
(راز)۔
اکثر اہلِ حدیث اور ائمہ کا یہی قول ہے کہ ہر دانت (کیلے) والا درندہ جو دانت سے شکار پکڑتا ہے اور حملہ کرتا ہے حرام ہے، جیسے: بھیڑیا، شیر، کتا، چیتا، اور ریچھ، بلی وغیرہ۔
اور امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا: کفتار (لکڑ بگڑ) اور لومڑی حلال ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے کہا: درندوں کی طرح یہ بھی حرام ہیں، اسی طرح گیڈر اور بوربچہ وغیرہ (بھی حرام ہے)، (وحیدی)۔
الحكم: إسناده قوي
← پچھلی حدیث (2018) باب پر واپس اگلی حدیث (2020) →