بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی محرم نے لکڑ بھگا شکار کر لیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں کسی محرم نے لکڑ بھگا شکار کر لیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1980 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الضَّبُعِ، فَقَالَ: "هُوَ صَيْدٌ وَفِيهِ كَبْشٌ إِذَا أَصَابَهُ الْمُحْرِمُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لکڑ بھگے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ صید ہے، یعنی شکار کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر محرم اسے شکار کرے تو مینڈھا کفارہ میں دینا ہو گا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1980]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1984] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3801] ، [ترمذي 851] ، [نسائي 2836] ، [ابن ماجه 3085، 3236] ، [أبويعلی 2127] ، [الموارد 979]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1981 سنن دارمی
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هُوَ صَيْدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ". قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ تَأْكُلُهُ؟ قَالَ: أَنَا أَكْرَهُ أَكْلَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عمار نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا لکڑ بھگا کھا سکتا ہوں؟ فرمایا: کھا سکتے ہو، میں نے کہا: کیا وہ شکار (کیا جا سکتا) ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: آپ لکڑ بھگے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کھا سکتے ہیں؟ کہا: مجھے اس کا کھانا پسند نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1981]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1985] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1791] ، [ابن ماجه 3236] ، [أبويعلی 7127] ، [ابن حبان 3965] ، [الموارد 1068] ، [معرفة السنن والآثار 19216] ، [نيل الأوطار 84/5-85] و [مشكل الآثار 370/4]
وضاحت
(تشریح احادیث 1979 سے 1981)
ضبع ایک جانور ہے، بعض شراح حدیث نے اس کا ترجمہ گوہ یا بجو سے کیا ہے جو درست نہیں ہے۔
یہ کتے کے برابر تقریباً کتے ہی کی طرح کا ایک جانور ہے جو شکار کیا جا سکتا ہے، کچھ علماء نے اس کے شکار سے درندہ ہونے کے سبب منع کیا ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح