بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1981 — کسی محرم نے لکڑ بھگا شکار کر لیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں کسی محرم نے لکڑ بھگا شکار کر لیا تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ حدیث 1981
حدیث نمبر: 1981 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الضَّبُعِ آكُلُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: هُوَ صَيْدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ". قُلْتُ: سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ: مَا تَقُولُ فِي الضَّبُعِ تَأْكُلُهُ؟ قَالَ: أَنَا أَكْرَهُ أَكْلَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عمار نے کہا: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا لکڑ بھگا کھا سکتا ہوں؟ فرمایا: کھا سکتے ہو، میں نے کہا: کیا وہ شکار (کیا جا سکتا) ہے؟ فرمایا: ہاں، میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: ہاں۔ امام دارمی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا: آپ لکڑ بھگے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کھا سکتے ہیں؟ کہا: مجھے اس کا کھانا پسند نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1981]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1985] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1791] ، [ابن ماجه 3236] ، [أبويعلی 7127] ، [ابن حبان 3965] ، [الموارد 1068] ، [معرفة السنن والآثار 19216] ، [نيل الأوطار 84/5-85] و [مشكل الآثار 370/4]
وضاحت
(تشریح احادیث 1979 سے 1981)
ضبع ایک جانور ہے، بعض شراح حدیث نے اس کا ترجمہ گوہ یا بجو سے کیا ہے جو درست نہیں ہے۔
یہ کتے کے برابر تقریباً کتے ہی کی طرح کا ایک جانور ہے جو شکار کیا جا سکتا ہے، کچھ علماء نے اس کے شکار سے درندہ ہونے کے سبب منع کیا ہے۔
والله اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1980) باب پر واپس اگلی حدیث (1982) →