بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وادی محسّر سے گزرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں وادی محسّر سے گزرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1929 سنن دارمی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبَا مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّ أَبَا مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ حِينَ دَفَعُوا:"عَلَيْكُمْ السَّكِينَةَ"، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ وَادِي مُحَسِّرًا، أَوْضَعَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو جب لوگ منیٰ کے لئے روانہ ہوئے تو فرمایا: آہستہ چلو، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود اونٹنی کو روکے ہوتے تھے (تیز چلنے سے) یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وادی محسّر میں داخل ہوئے تو اونٹنی کو تیز چلنے دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1929]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1933] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1282] ، [نسائي 3020، 3052] ، [أبويعلی 6724] ، [ابن حبان 3855، 3872]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1930 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، لَيْثٌ ، أَبِي الزُّبَيْرِ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ. قَالَ عَبْد اللَّهِ: الْإِيضَاعُ لِلْإِبِلِ، وَالْإِيجَافُ لِلْخَيْلِ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالزبیر نے بھی حسب سابق حدیث بیان کی۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: «ايضاع» اونٹ کے تیز چلنے کو اور «ايجاف» گھوڑے کے تیز چلنے کو کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1930]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1934] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ حوالہ اوپر دیکھئے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1928 سے 1930)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وادیٔ محسر میں اس وجہ سے تیزی سے گزرے کیونکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں الله تعالیٰ نے ابرہہ اور اس کی فوج اصحابِ فیل کو ابابیل کے ذریعہ مار کر بھس بنا دیا تھا۔
الحكم: إسناده صحيح