بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حیض و نفاس والی عورتیں حج کے ارادے سے میقات تک آ جائیں تو کیا کریں؟
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حیض و نفاس والی عورتیں حج کے ارادے سے میقات تک آ جائیں تو کیا کریں؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1842 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَةُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ "تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو جب محمد بن ابی بکر کی ولادت پر شجرہ کے پاس نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ (ان سے کہیں) غسل کر کے احرام باندھ لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1845] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1209] ، [أبوداؤد 1743] ، [ابن ماجه 2911] ، [أحمد 369/6]
وضاحت
(تشریح حدیث 1841)
شجرہ ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، آج جو مسجد میقات پر تعمیر ہے وہ اسی مقام پر ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1843 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، جَرِيرٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ، فِي حَدِيثِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، حِينَ نُفِسَتْ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ "تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کی حدیث کے بارے میں مروی ہے کہ جب ان کو ذوالحلیفہ میں نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ان سے کہیں غسل کر کے احرام باندھ لیں۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1843]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1846] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1210] ، [نسائي 214، 2660] ، [ابن ماجه 2913] ، [أبويعلی 2027] ، [ابن حبان 3791، 3944] ، [الحميدي 1325، 2512]
وضاحت
(تشریح حدیث 1842)
ان دونوں حدیثوں سے ثابت ہوا کہ جو عورت حج کے ارادے سے نکلے اور اس کو حیض یا نفاس آجائے تو غسل کرنے کے بعد احرام باندھے اور تلبیہ کہے اور ہر وہ کام کرے جو حاجی کرتے ہیں، بس بیت اللہ الحرام کا طواف نہ کرے، جیسا کہ صحیحین میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، بیت اللہ کا طواف ایام سے فارغ ہو کر غسل کرنے کے بعد کرے۔
الحكم: إسناده صحيح