عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَبْدَةُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:"نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ بِالشَّجَرَةِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ "تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو جب محمد بن ابی بکر کی ولادت پر شجرہ کے پاس نفاس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”(ان سے کہیں) غسل کر کے احرام باندھ لیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1842]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1845] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1209] ، [أبوداؤد 1743] ، [ابن ماجه 2911] ، [أحمد 369/6]
وضاحت
(تشریح حدیث 1841)
شجرہ ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، آج جو مسجد میقات پر تعمیر ہے وہ اسی مقام پر ہے۔
الحكم: إسناده صحيح