بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
روزے دار کے لئے بیوی کے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی روزے کے مسائل روزے دار کے لئے بیوی کے بوسہ لینے کی اجازت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1760 سنن دارمی
حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ". فَقَالَ عُرْوَةُ: أَمَا إِنَّهَا لَا تَدْعُو إِلَى خَيْرٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا کرتے تھے، عروہ نے کہا: لیکن یہ بوسہ (روزے کی حالت میں) کوئی اچھی بات نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1760]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1763] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1928] ، [مسلم 1106] ، [أبوداؤد 2382] ، [ترمذي 727] ، [ابن ماجه 1683] ، [أبويعلی 4428] ، [ابن حبان 537، 3539] ، [الحميدي 198، 199]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1761 سنن دارمی
سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّلْحِيُّ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ "يُقَبِّلُهَا وَهُوَ صَائِمٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1761]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1764] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ تخریج اوپر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1762 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: هَشِشْتُ فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا: قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ. قَالَ:"أَرَأَيْتَ لَوْ مَضْمَضْتَ مِنْ الْمَاءِ؟"قُلْتُ: إِذًا لَا يَضُرُّ. قَالَ:"فَفِيمَ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے سرور میں آ کر روزے کی حالت میں بوسہ لے لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: آج میں نے بہت بڑا جرم کیا، میں روزے سے تھا اور بوسہ لے لیا؟ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے میں پانی سے کلی کر لو تو کیا خیال ہے؟ میں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں، فرمایا: پھر اس میں کیوں (حرج) ہونے لگا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصوم/حدیث: 1762]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 1765] »
مذکورہ بالا حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 2385] ، [ترمذي 727] ، [ابن حبان 3544] ، [موارد الظمآن 905] ، [المحلی 209/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 1759 سے 1762)
سیدنا عمر الفاروق رضی اللہ عنہ اتنے جلیل القدر صحابی ایک معمولی سی حرکت ان سے سرزد ہوئی لیکن مواخذے کا اتنا شدید خوف کہ گھبرائے ہوئے محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے، ماجرا سنایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کمالِ شفقت و محبت سے مثال دیکر سمجھایا کہ جس طرح کلی کرنے سے روزے میں خلل نہیں پڑا، بوس و کنار سے بھی کوئی خلل نہیں، اس طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی پریشانی دور ہو کر انہیں تسلی ہوئی۔
شریعت ایک آسان و جامع قانون کا نام ہے جس کا زندگی کے ہر ہر گوشے سے تعلق ضروری ہے، میاں بیوی کا تعلق جو بھی ہے ظاہر ہے اس لئے حالتِ روزہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بوس و کنار جائز رکھا گیا ہے بشرطیکہ روزہ رکھنے والے کو اپنی طبیعت پر پورا قابو حاصل ہو (جیسا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں ہے: «كَانَ أَمْلَكُكُمْ لِإِرْبِهِ» یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی خواہش کو کنٹرول میں رکھنے پر تم سے زیادہ اختیار رکھتے تھے)۔
اسی لئے (کچھ علماء نے کہا) جوانوں کے واسطے بوس و کنار کی اجازت نہیں، ان کا نفس غالب رہتا ہے، ہاں یہ خوف نہ ہو تو جائز ہے (مولانا راز رحمۃ اللہ علیہ)۔