بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کوئی آدمی جب اسلام لائے تو وہ چیز اسی کی ہو گی جو اس کے پاس تھی
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی زکوٰۃ کے مسائل کوئی آدمی جب اسلام لائے تو وہ چیز اسی کی ہو گی جو اس کے پاس تھی
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1711 سنن دارمی
أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ، قَالَ: أُخِذَتْ عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّتَهُ، فَقَالَ:"يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ". وَكَانَ مَاءٌ لِبَنِي سُلَيْمٍ، فَأَسْلَمُوا، فَسَأَلُوهُ ذَلِكَ فَدَعَانِي، فَقَالَ:"يَا صَخْرُ، إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا، أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ"فَدَفَعْتُهَا.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا صخر بن عيلۃ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی کو گرفتار کیا اور انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماجرا پوچھا، پھر فرمایا: اے صخر! جب کوئی قوم مسلمان ہو جائے تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں۔ اس لونڈی کو انہیں لوگوں کو واپس کر دو۔ (اسی طرح) بنو سلیم کا پانی تھا اور وہ اسلام لے آئے اور درخواست کی کہ ان کا پانی انہیں کے پاس رہنے دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اے صخر! جب کوئی قوم مسلمان ہو جائے تو ان کی جانیں اور مال محفوظ ہو جاتے ہیں اس پانی کو نہیں لوٹا دو۔ چنانچہ میں نے وہ پانی (یعنی پانی کی جگہ کو) واپس کر دیا۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1711]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 1715] »
اس حدیث کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [ أبوداؤد 3067] ، [معجم الطبراني 7279] ، [مسند أحمد 301/4، وغيرهم]
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1712 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، أَبِيهِ ، صَخْرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ، أَطْوَلَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا صخر رضی اللہ عنہ کی حدیث مروی ہے جو ابونعیم کی مذکور بالا حدیث سے زیادہ طویل ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الزكاة/حدیث: 1712]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أخرجه أبو داود في الخراج والإمارة، [مكتبه الشامله نمبر: 1716] »
حوالہ کے لئے دیکھئے: [أبوداؤد 3087]
وضاحت
(تشریح احادیث 1710 سے 1712)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تفصیل سے بیان کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جو اسلام لے آیا اس کا مال، اس کی جان محفوظ ہو جاتے ہیں۔
صخر نے لونڈی پکڑ لی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واپس کرا دیا، پانی کی جگہ پر قبضہ کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو بھی واپس کرا دیا، یہ اسلام کی فضیلت اور مسلمان کی حرمت و تعظیم ہے۔
الحكم: أخرجه أبو داود في الخراج والإمارة