بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سترہ لگا کر نماز پڑھنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سترہ لگا کر نماز پڑھنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1447 سنن دارمی
أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، أَبَا جُحَيْفَةَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ يَقُولُ:"خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَطْحَاءِ بِالْهَاجِرَةِ، فَصَلَّى الظُّهْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَالْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ، وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ، وَإِنَّ الظُّعُنَ لَتَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوپہر کے وقت (وادی) بطحاء میں تشریف لائے اور ظہر و عصر کی دو دو رکعت نماز پڑھی (یعنی جمع تقدیم کے ساتھ)، اور آپ کے سامنے برچھی کا سترہ تھا، اور عورتوں کی سواریاں آپ کے سامنے سے گزر رہیں تھیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1447]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1449] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 495] ، [مسلم 503] ، [أبوداؤد 688] ، [نسائي 469] ، [أبويعلی 887] ، [ابن حبان 1268] ، [الحميدي 916]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1448 سنن دارمی
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَتْ تُرْكَزُ لَهُ الْعَنَزَةُ يُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے برچھی (چھڑی) گاڑ دی جاتی اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے (یعنی فضا میں آپ برچھی یا چھڑی کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1450] »
یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 494] ، [مسلم 501] ، [أبوداؤد 687] ، [ابن ماجه 1305] ، [ابن حبان 2377]
وضاحت
(تشریح احادیث 1446 سے 1448)
ان احادیث سے سترہ لگا کر نماز پڑھنا ثابت ہوا اور یہ بھی کہ سترے کے آگے سے کوئی گذرے تو نماز خراب نہیں ہوگی جس کا بیان آگے آرہا ہے۔
بعض علماء وفقہاء نے بنا سترہ نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح