بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1448 — سترہ لگا کر نماز پڑھنے کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل سترہ لگا کر نماز پڑھنے کا بیان حدیث 1448
حدیث نمبر: 1448 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُسَدَّدٌ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"كَانَتْ تُرْكَزُ لَهُ الْعَنَزَةُ يُصَلِّي إِلَيْهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے برچھی (چھڑی) گاڑ دی جاتی اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے (یعنی فضا میں آپ برچھی یا چھڑی کو سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1448]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1450] »
یہ حدیث بھی صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 494] ، [مسلم 501] ، [أبوداؤد 687] ، [ابن ماجه 1305] ، [ابن حبان 2377]
وضاحت
(تشریح احادیث 1446 سے 1448)
ان احادیث سے سترہ لگا کر نماز پڑھنا ثابت ہوا اور یہ بھی کہ سترے کے آگے سے کوئی گذرے تو نماز خراب نہیں ہوگی جس کا بیان آگے آرہا ہے۔
بعض علماء وفقہاء نے بنا سترہ نماز پڑھنے سے منع کیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (1447) باب پر واپس اگلی حدیث (1449) →