بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز میں بھول چوک ہونے پر مردوں کے تسبیح کہنے اور عورتوں کی تصفیق کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل نماز میں بھول چوک ہونے پر مردوں کے تسبیح کہنے اور عورتوں کی تصفیق کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 1401 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مردوں کے لئے تسبیح اور عورتوں کے لئے تصفيق ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1401]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1403] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1203] ، [مسلم 422] ، [أبوداؤد 939] ، [نسائي 1206] ، [ابن ماجه 1034] ، [أبويعلی 5955] ، [ابن حبان 2262] ، [الحميدي 978]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1402 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ، فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّحْ النِّسَاءُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز میں تم کو کوئی واقعہ پیش آ جائے (بھول چوک ہو جائے) تو مرد «سبحان الله» کہیں اور عورتیں ہاتھ پر ہاتھ ماریں (تالی کی طرح ہاتھ پر ہاتھ مار کر آ گاہ کریں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1402]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1404] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 684] ، [مسلم 421] ، [أبوداؤد 940] ، [نسائي 783] ، [ابن ماجه 1035] ، [أبويعلی 7512] ، [ابن حبان 2660] ، [الحميدي 596]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1403 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مثل حدیث روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1405] »
اوپر اس کے حوالے گذر چکے ہیں، اور یہ سند بھی صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1400 سے 1403)
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
الحكم: إسناده صحيح