يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي حَازِمٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی (مذکورہ بالا روایت) کے مثل حدیث روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1403]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1405] »
اوپر اس کے حوالے گذر چکے ہیں، اور یہ سند بھی صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 1400 سے 1403)
نماز میں امام سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتیں ہاتھ کی پشت پر ہاتھ ماریں تاکہ امام متنبہ ہو جائے، بعض نسخ میں «التصفيح للنساء» بھی آیا ہے جس کے معنی ہیں ہاتھ پر ہاتھ مارنا، یا ہتھیلی کو ہتھیلی پر مارنا۔
امام قسطلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ کھیل کے طور پر تالی بجانے سے نماز فاسد ہو جائے گی۔
الحكم: إسناده صحيح