بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مغرب کی نماز میں قراءۃ کی مقدار کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل مغرب کی نماز میں قراءۃ کی مقدار کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1329 سنن دارمی
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، أُمِّ الْفَضْلِ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبأَنَا يُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ: وَالْمُرْسَلَاتِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ مرسلات پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1331] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 763] ، [مسلم 462] ، [أبويعلی 7071] ، [ابن حبان 1832] ، [الحميدي 340]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1330 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِوَالطُّورِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حمد بن جبیر بن مطعم نے اپنے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۂ والطّور پڑھتے ہوئے سنا۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 1332] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 765] ، [مسلم 463] ، [أبويعلی 7393] ، [ابن حبان 1833] ، [الحميدي 566]
وضاحت
(تشریح احادیث 1328 سے 1330)
مغرب کی نماز کا وقت تھوڑا ہوتا ہے اس لئے چھوٹی سورتیں جنہیں قصار کہا جاتا ہے پڑھنا چاہئے، کبھی کوئی سورت طوال مفصل سے یعنی بڑی سورتوں میں سے بھی قرأت کی جائے تو مسنون ہے خصوصاً سورهٔ مرسلات یا سورۂ طور پڑھنا، جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث میں ہے، تو یہ سنّت طریقہ ہے۔
الحكم: إسناده صحيح ولكن الحديث متفق عليه