بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 1268 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فِي قُبَاءٍ إِذْ جَاءَهُمْ رَجُلٌ، فَقَالَ:"إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ، وَأُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، فَاسْتَقْبِلُوهَا، وَكَانَ وَجُهُ النَّاسِ إِلَى الشَّامِ، فَاسْتَدَارُوا، فَوَجَّهُوا إِلَى الْكَعْبَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ لوگ قبا میں نماز فجر ادا کر رہے تھے کہ ایک صحابی ان کے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم ہوا کہ وہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں، لہٰذا وہ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھر گئے، اور ان لوگوں کا رخ شام کی طرف تھا، پس وہ گھوم گئے اور کعبہ کی طرف انہوں نے منہ کر لئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1268]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1270] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 403] ، [مسلم 526] ، [ابن حبان 1715]
وضاحت
(تشریح حدیث 1267)
«أُنْزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ» سے مراد آیت تحويل القبلہ «﴿فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ﴾» ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1269 سنن دارمی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ:"يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول آپ کی ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہو گئے؟ سو الله تعالیٰ نے یہ آیت شریفہ نازل فرمائی: الله تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا۔ [بقرة: 143/2] [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة، [مكتبه الشامله نمبر: 1271] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 40] ، [مسلم 525] ، [ابن حبان 1717] ، [الموارد 1718]
وضاحت
(تشریح حدیث 1268)
اس آیت «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾» میں «إِيمَانَكُمْ» سے مراد «صَلَاتَكُمْ» ہے، یعنی تمہاری نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔
الحكم: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة