بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1269 — بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تحویل قبلہ کا بیان حدیث 1269
حدیث نمبر: 1269 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، إِسْرَائِيلَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قِيلَ:"يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ الَّذِينَ مَاتُوا وَهُمْ يُصَلُّونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول آپ کی ان لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہوئے فوت ہو گئے؟ سو الله تعالیٰ نے یہ آیت شریفہ نازل فرمائی: الله تعالیٰ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا۔ [بقرة: 143/2] [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1269]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة، [مكتبه الشامله نمبر: 1271] »
اس روایت کی سند میں ضعف ہے، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 40] ، [مسلم 525] ، [ابن حبان 1717] ، [الموارد 1718]
وضاحت
(تشریح حدیث 1268)
اس آیت «﴿وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ﴾» میں «إِيمَانَكُمْ» سے مراد «صَلَاتَكُمْ» ہے، یعنی تمہاری نمازیں ضائع نہ ہوں گی۔
الحكم: إسناده ضعيف رواية سماك عن عكرمة مضطربة
← پچھلی حدیث (1268) باب پر واپس اگلی حدیث (1270) →