بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اذان کے بعد مسجد سے نکلنا مکروہ ہے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی نماز کے مسائل اذان کے بعد مسجد سے نکلنا مکروہ ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1239 سنن دارمی
سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، شُعْبَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ الْمُحَارِبِيِّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَأَى رَجُلًا خَرَجَ مِنْ الْمَسْجِدِ بَعْدَ مَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَالَ:"أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو اذان کے بعد مسجد سے نکلتے دیکھا تو کہا: اس نے ابوقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الصللاة/حدیث: 1239]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وأبو الشعثاء هو: سليم بن الأسود، [مكتبه الشامله نمبر: 1241] »
یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 655] ، [أبوداؤد 536] ، [ترمذي 204] ، [نسائي 682] ، [ابن ماجه 733] ، [ابن حبان 2062] ، [الحميدي 1028]
وضاحت
(تشریح حدیث 1238)
یعنی اذان دینے کے بعد بلا عذرِ شرعی مسجد سے نکلنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی ہے اور یہ فعل مکروہ ہے۔
الحكم: إسناده صحيح وأبو الشعثاء هو: سليم بن الأسود