بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حاملہ عورت کا بیان جس کو خون آ جائے
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل حاملہ عورت کا بیان جس کو خون آ جائے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 28
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 956 سنن دارمی
خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيَّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، فَقَالَ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا جس کو خون آ جائے، تو انہوں نے کہا: نماز ترک کر دے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 956]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 961] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الموطا فى الطهارة 103] و [مصنف عبدالرزاق 1209] و [الاستذكار 198/3]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 957 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَأَلْتُ , مُجَاهِدًا عَنْ امْرَأَتِي رَأَتْ دَمًا، وَأَنَا أُرَاهَا حَامِلًا، قَالَ: "ذَلِكَ غَيْضُ الْأَرْحَامِ اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، فَمَا غَاضَتْ مِنْ شَيْءٍ رَأَتْ مِثْلَهُ فِي الْحَمْلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن الاسود نے کہا: میں نے مجاہد سے اپنی بیوی کے بارے میں دریافت کیا جس کو خون آ گیا، میرا خیال تھا کہ وہ حامل ہے، انہوں نے کہا: یہ غیض الارحام کے قبیل سے ہے (اللہ تعالیٰ جانتا ہے مادہ اپنے شکم میں جو کچھ بھی رکھتی ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی۔۔۔) [الرعد 8/13]
پس جو چیز کم ہوتی ہے اسی کے مثل حمل میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 957]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 962] »
اس روایت کی سند صحیح ہے دیکھئے: [تفسير الطبري 110/13]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 958 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: اللَّهُ يَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ أُنْثَى وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ وَمَا تَزْدَادُ وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِمِقْدَارٍ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "ذَلِكَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ، لَا تَحِيضُ يَوْمًا فِي الْحَبَلِ إِلَّا زَادَتْهُ طَاهِرًا فِي حَبَلِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم الاحول نے عکرمہ سے روایت کیا کہ آیت (مادہ اپنے شکم میں کیا رکھتی ہے الله تعالیٰ اس کو بخوبی جانتا ہے اور پیٹ کا گھٹنا بڑھنا بھی، ہر چیز اس کے پاس اندازے سے ہے) [الرعد 8/13]
عکرمہ نے کہا: یہ حمل کا حیض ہے، حالت حمل میں ایک دن حیض آئے تو عورت اپنے حمل میں اس کی پاکی کا اضافہ کرتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 958]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 963] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 111/13] ، اور دیکھئے: اثر رقم (960)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 959 سنن دارمی
أَبُو النُّعْمَانِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَمْرٌ لَا يُخْتَلَفُ فِيهِ عِنْدَنَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا "الْمَرْأَةُ الْحُبْلَى إِذَا رَأَتْ الدَّمَ أَنَّهَا لَا تُصَلِّي حَتَّى تَطْهُرَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن سعید نے کہا: ایک مسئلہ میں ہمارے نزدیک کوئی اختلاف نہیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت کو اگر خون آ جائے تو وہ نماز نہیں پڑھے گی، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے (یعنی خون رک جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 959]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه وربما كان معضلا، [مكتبه الشامله نمبر: 964] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے، اعضال بھی ہوسکتا ہے۔ کہیں اور نہیں مل سکی، لیکن آگے (964) میں آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه وربما كان معضلا
حدیث نمبر: 960 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "هُوَ الْحَيْضُ عَلَى الْحَبَلِ وَمَا تَزْدَادُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: فَلَهَا بِكُلِّ يَوْمٍ حَاضَتْ فِي حَمْلِهَا يَوْمًا تَزْدَادُ فِي طُهْرِهَا حَتَّى تَسْتَكْمِلَ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ طَاهِرًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم (الاحول) نے عکرمہ سے روایت کیا کہ «وما تغيض الأرحام» سے مراد حاملہ عورت کا حیض ہے، اور «وما تزداد» کے بارے میں عکرمہ نے کہا: کہ ایسی عورت کے لئے ہر دن کے بدلے جب کے اسے حیض آتا رہے اس کے طہر میں اضافہ ہو گا، یہاں تک کہ نو مہینے پورے ہو جائیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 960]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 965] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ عاصم: ابن سلیمان ہیں۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 111/13]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 961 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: وَمَا تَغِيضُ الأَرْحَامُ سورة الرعد آية 8، قَالَ: "إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: يَكُونُ ذَلِكَ نُقْصَانًا مِنْ الْوَلَدِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى تِسْعَةِ أَشْهُرٍ، كَانَ تَمَامًا لِمَا نَقَصَ مِنْ وَلَدِهَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوبشر سے مروی ہے مجاہد نے «وما تغيض الأرحام» کے بارے میں کہا: جب حاملہ عورت کو حیض آ جائے تو یہ بچے میں نقص ہے، اور جب نو مہینے سے زیادہ ہو جائے تو جو کمی ہوئی تھی وہ اس بچے کی پورتی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 961]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 966] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تفسير الطبري 109/13، 110] «وكما مر آنفا» ۔ نيز ابوبشر کا نام جعفر بن ابی وحشیہ ہے، اور ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، ابوعوانہ: وضاح بن عبداللہ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 962 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: "امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بکر بن عبدالله المزنی نے کہا: میری عورت کو حمل کی حالت میں حیض آتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 962]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 967] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ حجاج: ابن منہال ہیں۔ اس کو امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 963 سنن دارمی
قَالَ أَبُو مُحَمَّد: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ حَرْبٍ، يَقُولُ: امْرَأَتِي تَحِيضُ وَهِيَ حُبْلَى.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابومحمد امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے سلیمان بن حرب سے سنا: وہ فرماتے تھے کہ میری بیوی کو حالت حمل میں حیض آ جاتا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 963]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 967] »
حسبِ سابق یہ سند صحیح ہے، اور کہیں منقول بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 964 سنن دارمی
حَجَّاجٌ ، حَمَّادٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: "إِذَا رَأَتْ الْحُبْلَى الدَّمَ، فَلْتُمْسِكْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ حَيْضٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ بن سعید سے مروی ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: حاملہ عورت جب خون دیکھے تو نماز سے رک جائے، وہ حیض کا خون ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 964]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 968] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ (956) میں گذر چکی ہے۔ مزید دیکھئے: [الاستذكار 3387] و [سنن البيهقي 423/7]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 965 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٌ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَن عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، مِثْلُ ذَلِكَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مذکورہ بالا روایت امام مالک رحمہ اللہ کے طریق سے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 965]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 969] »
اس اثر کی سند میں اعضال ہے، دو راوی سند سے ساقط ہیں۔ «كما سيأتي» (969)۔
الحكم: إسناده معضل
حدیث نمبر: 966 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ "إِنْ كَانَ الدَّمُ عَبِيطًا، اغْتَسَلَتْ وَصَلَّتْ، وَإِنْ كَانَتْ تَرِيَّةً، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث (بن ابی سلیم) سے مروی ہے، امام شعبی رحمہ اللہ نے اس حاملہ کے بارے میں فرمایا جس کو خون آ جائے: اگر تازہ خون ہے تو غسل کر کے نماز پڑھے، اور دوسری رطوبات ملی ہیں تو وضو کر کے نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 966]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف الليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 970] »
لیث کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 212/2] ، تریہ کے معنی ذکر کئے جا چکے ہیں کہ وہ حیض کے بعد آنے والی رطوبات صفرہ یا کدرہ ہیں۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 967 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 967]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 971] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں۔ کہیں اور یہ روایت نہیں مل سکی۔ ابوالمغیرہ: عبدالقدوس بن الحجاج ہیں۔ نیز دیکھئے: [الاستذكار 198/3]
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 968 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ هُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِنْ كَانَتْ تَرَاهُ كَمَا كَانَتْ تَرَاهُ قَبْلَ ذَلِكَ فِي أَقْرَائِهَا تَرَكَتْ الصَّلَاةَ، وَإِنْ كَانَ إِنَّمَا هُوَ فِي الْيَوْمِ أَوْ الْيَوْمَيْنِ، لَمْ تَدَعْ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: حاملہ عورت اگر اسی طرح کا خون دیکھے جیسا اس سے قبل ایام ماہواری میں آتا تھا، تو نماز ترک کر دے گی، اور اگر ایک دو دن ویسے ہی خون آ جائے، تو نماز ترک نہیں کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 968]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 972] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 212/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 969 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، سَعِيدٍ ، مَطَرٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَتْ: "لَا يَمْنَعُهَا ذَلِكَ مِنْ صَلَاةٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حامل کے بارے میں جسے خون آ جائے فرمایا: یہ خون مانع صلاۃ نہیں (یعنی نماز ترک نہ کرے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 969]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 973] »
مطر بن طہمان کی وجہ سے یہ روایت حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 212/2] و [بيهقي 423/7]
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 970 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هَمَّامٌ ، مَطَرٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَتْ: "تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي"، قَالَ يَزِيدُ:"لَا تَغْتَسِلُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: أَقُولُ بِقَوْلِ يَزِيدَ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حاملہ کے بارے میں روایت کیا کہ جب وہ خون دیکھے تو غسل کرے اور نماز پڑھ لے۔ یزید نے کہا: نہیں، غسل نہیں کرے گی، امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں بھی وہی کہتا ہوں جو یزید نے کہا ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 970]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 974] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [دارقطني 219/1، 63] ، [بيهقي 423/7]
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 971 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ، غَيْرَ أَنَّهَا لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یونس بن عبید سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ نے حاملہ کے بارے میں فرمایا: جس کو خون آ جائے وہ مستحاضہ کے حکم میں ہے، اور نماز ترک نہیں کرے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 971]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 975] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1210] ، «والأثر الآتي» (975)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 972 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "تَغْسِلُ عَنْهَا الدَّمَ، وَتَتَوَضَّأُ، وَتُصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرة (ابن مقسم) سے مروی ہے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے حاملہ کے بارے میں جسے خون آ جائے فرمایا: خون کو دھو ڈالے، وضو کرے اور نماز پڑھے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 972]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 976] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ ابوعوانہ کا نام وضاح بن عبداللہ ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 212/2] ، «والأثر الآتي» (978)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 973 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَكَمِ، قَالَا: "إِذَا رَأَتْ الْحَامِلُ الدَّمَ، تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حجاج بن ارطاۃ نے عطاء اور حکم رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے فرمایا: حاملہ عورت جب خون دیکھے تو وضو کر کے نماز پڑھ لے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 973]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أرطاة، [مكتبه الشامله نمبر: 977] »
حجاج کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے، لیکن عطاء رحمہ اللہ سے مروی اثر صحیح ہے، «كما سيأتي» (979)۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو: ابن أرطاة
حدیث نمبر: 974 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعٍ هُوَ ابْنُ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ، قَالَ: "تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے حامل کے بارے میں کہا کہ جو خون دیکھے وہ وضو کرے اور نماز پڑھے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 974]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 978] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 212/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 975 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ وہ مثل مستحاضہ ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 975]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثر صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 979] »
یہ اثر صحیح ہے۔ (971) پر گذر چکا ہے۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (979)۔
الحكم: أثر صحيح