بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایک غسل سے تمام بیویوں کے پاس جانے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل ایک غسل سے تمام بیویوں کے پاس جانے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 776 سنن دارمی
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهً عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک دن میں اپنی سب بیویوں کے پاس چکر لگایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 776]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 780] »
اس حدیث کو [أبوداؤد 337] ، [نسائي 263] ، طحاوی نے [شرح معاني الآثار 129/1] ، أبویعلی نے [مسند 2942] میں اور ابن حبان نے [صحيح 1206] میں ذکر کیا ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 777 سنن دارمی
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٌ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کے پاس ایک رات میں چکر لگایا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 777]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 781] »
اس روایت کو امام أحمد نے [مسند 252/2] میں اور امام ابوداؤد نے بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 775 سے 777)
پہلی روایت میں دن اور دوسری روایت میں رات کا ذکر ہے، اور مراد اس سے جماع کرنا ہے۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک غسل میں چار بیویاں بھی اگر ہوں تو ان سے مباشرت کے بعد ایک بار غسل کافی ہے، واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس وقت گیارہ بیویاں تھیں، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، دیکھئے: [بخاري 284] ، لیکن دوسری بار یا دوسری بیوی سے جماع کرنے سے پہلے صفائی اور وضو کر لینا چاہئے کیونکہ اس سے نشاط اور ہوشیاری لوٹ آتی ہے۔
«كما فى الحديث» ۔
الحكم: إسناده صحيح