بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
اس پانی کی مقدار کا بیان جو نجس نہیں ہوتا
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل اس پانی کی مقدار کا بیان جو نجس نہیں ہوتا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 754 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُسْأَلُ عَنْ الْمَاءِ يَكُونُ بِالْفَلَاةِ مِنْ الْأَرْضِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟، فَقَالَ: "إِذَا بَلَغَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنگل کے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس سے چوپائے اور درندے پانی پیتے ہیں (اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے)، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی کی مقدار دو قلہ تک پہنچ جائے تو اس کو کوئی چیز گنده (ناپاک) نہیں کرتی۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 754]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن إسحاق ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 758] »
اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن کتب احادیث میں دوسری صحیح سند سے بھی موجود ہے، اس لئے اس کا معنی صحیح اور قابلِ استدلال ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 63] ، [ترمذي 67] ، [نسائي 52] ، [ابن ماجة 517، 518] ، [مسند أبى يعلی 5590] ، [ابن حبان 1249] و [موارد الظمآن 117]
وضاحت
(تشریح حدیث 753)
قلہ بڑے مٹکے کو کہتے ہیں، اس کی تثنیہ قلتان ہے جو حالتِ جر میں قلتین ہوئی، موجودہ پیمانوں کے مطابق قلتین کی مقدار دو سو ستائیس کلوگرام ہوتی ہے۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی مقدار دو مٹکوں سے کم ہوگی تو محض نجاست کے گرنے ہی سے وہ ناپاک ہو جائے گا خواہ رنگ، بو، ذائقہ بدلے یا نہ بدلے، اور اگر پانی کی مقدار دو قلہ سے زیادہ ہے تو وہ اس وقت تک نجس نہ مانا جائے گا جب تک کہ مذکورہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف نہ بدل جائے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے شرح بلوغ المرام، مولانا صفی الرحمٰن صاحب حفظہ اللہ، حدیث رقم (4)۔
الحكم: إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن إسحاق ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 755 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس سے درند و چرند پانی پیتے ہیں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کو قبول ہی نہیں کرتا۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 755]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 759] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 63] ، [ترمذي 67] ، [نسائي 52] ، [ابن ماجه 517]
وضاحت
(تشریح حدیث 754)
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔
الحكم: إسناده صحيح