يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْمَاءِ وَمَا يَنُوبُهُ مِنْ الدَّوَابِّ وَالسِّبَاعِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ الْخَبَثَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس پانی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس سے درند و چرند پانی پیتے ہیں؟ رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کو قبول ہی نہیں کرتا۔“ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 755]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 759] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 63] ، [ترمذي 67] ، [نسائي 52] ، [ابن ماجه 517]
وضاحت
(تشریح حدیث 754)
یعنی ایسا پانی مجرد نجاست کے اس میں گر نے سے نجس نہیں ہوتا جب تک کہ اوصافِ ثلاثہ میں سے کوئی وصف تبدیل نہ ہو جائے۔
الحكم: إسناده صحيح