بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ذکر کے چھونے سے وضو کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل ذکر کے چھونے سے وضو کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 747 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنُ حَزْمٍ ، عُرْوَةَ ، بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ حَزْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "يَتَوَضَّأُ الرَّجُلُ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا: آدمی عضو مخصوص کو چھو لے تو وضو کرے گا۔ یعنی اس کا وضو ٹوٹ گیا، اور اس کو نماز کے لئے تجدیدِ وضو کرنا چاہیے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 747]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 751] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداود 181] ، [ترمذي 82، 84] ، [نسائي 163] ، [ابن ماجه 479] ۔ نیز دیکھئے: [شرح معاني الآثار 72/1] ، [صحيح ابن حبان 1112] و [الموارد 211]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 748 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عُرْوَةَ ، مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ، فَلْيَتَوَضَّأْ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: هَذَا أَوْثَقُ فِي مَسِّ الْفَرْجِ، وَقَالَ: الْوُضُوءُ أَثْبَتُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ بسره بنت صفوان رضی اللہ عنہا سے مروی ہے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو آدمی اپنی شرمگاہ کو مس کرے وہ وضو کر لے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے فرمایا: شرم گاہ کے سلسلے میں یہ سب سے معتمد روایت ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 748]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 752] »
یہ روایت اس سند سے ضعیف ہے، لیکن مذکورہ بالا سند صحیح ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 746 سے 748)
مس ذکر و فرج سے وضو ٹوٹنے کے بارے میں صحابہ و تابعین علماء و فقہاء میں اختلاف ہے۔
صحیح اور خلاصہ یہ ہے کہ شرمگاہ کو بنا کسی حائل کے چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث اور حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت ہوتا ہے، اور جن حضرات نے طلق بن علی کی روایت سے استدلال کیا ہے کہ وہ بھی جسم کا ایک ٹکڑا ہے وہ حدیث مذکور بالا بسره کی حدیث کے پائے کی نہیں، اس لئے راجح یہی ہے کہ مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
واللہ علم
الحكم: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح