بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قبلہ کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کی رخصت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی وضو اور طہارت کے مسائل قبلہ کی طرف منہ کر کے قضائے حاجت کی رخصت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 690 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"جَالِسًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کئے دو اینٹوں پر بیٹھے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 690]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 694] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 148، 149] ، [صحيح مسلم 266] ، [ابن حبان 1418] ، [دارقطني 61/1] وغيرهم۔
وضاحت
(تشریح احادیث 688 سے 690)
نہی اور رخصت کی احادیث میں تطبیق و توفیق کے سلسلے میں علمائے کرام نے یہ وضاحت کی ہے کہ جنگل میں قبلہ رو ہو کر قضائے حاجت منع ہے۔
مذکورہ بالا فعل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تحت پختہ بنے ہوئے مکان میں اس کی اجازت ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح