يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمَّهُ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "عَلَى ظَهْرِ بَيْتِنَا"، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"جَالِسًا عَلَى لَبِنَتَيْنِ، مُسْتَقْبِلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں اپنے گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بیت المقدس کی طرف منہ کئے دو اینٹوں پر بیٹھے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 690]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 694] »
یہ حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 148، 149] ، [صحيح مسلم 266] ، [ابن حبان 1418] ، [دارقطني 61/1] وغيرهم۔
وضاحت
(تشریح احادیث 688 سے 690)
نہی اور رخصت کی احادیث میں تطبیق و توفیق کے سلسلے میں علمائے کرام نے یہ وضاحت کی ہے کہ جنگل میں قبلہ رو ہو کر قضائے حاجت منع ہے۔
مذکورہ بالا فعل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تحت پختہ بنے ہوئے مکان میں اس کی اجازت ہے۔
واللہ اعلم۔
الحكم: إسناده صحيح