بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
کسی چیز کا فتویٰ دینے کے بعد اس کے خلاف رائے بدل کر فتویٰ دینے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ کسی چیز کا فتویٰ دینے کے بعد اس کے خلاف رائے بدل کر فتویٰ دینے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 668 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ابْنُ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٍ ، سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ ، وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَتَيْنَا عُمَرَ فِي الْمُشَرَّكَةِ فَلَمْ يُشَرِّكْ، ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَشَرَّكَ، فَقُلْنَا لَهُ: فَقَالَ: "تِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حکم بن مسعود سے مروی ہے کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اخوت میں شریک بھائیوں کے بارے میں پوچھا (یعنی حقیقی، علاتی اور اخیافی بھائی) تو انہوں نے انہیں شریک نہیں ٹھہرایا، اگلے سال پھر ہم ان کے پاس گئے تو کہا: (میراث میں) سب شریک ہیں، ہم نے کہا: پچھلے سال تو آپ نے اس کے برعکس کہا تھا، فرمایا: وہ اُس وقت کا فیصلہ تھا اور یہ اس وقت کا فیصلہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 668]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 671] »
اس اثر کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 11144] ، [التاريخ الكبير للبخاري 332/2] ، [المعرفة والتاريخ 223/2] ، [البيهقي 255/6] ، [الفرائض باب الشركة مصنف عبدالرزاق 19005]
وضاحت
(تشریح حدیث 667)
اس روایت سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنی رائے کو بدلنا ثابت ہوا جو اُمّتِ محمدیہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں۔
الحكم: إسناده جيد