بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر تبلیغ اور سنتوں کی تعلیم کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 22
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 579 سنن دارمی
عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، يُونُسُ ، صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيِّ ، الْحَسَنِ ، أَبِي مُوسَى
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُسْتُمَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ حِينَ قَدِمَ الْبَصْرَةَ: "بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُعَلِّمُكُمْ كِتَابَ رَبِّكُمْ، وَسُنَّتَكُمْ، وَأُنَظِّفُ طُرُقَكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن سے مروی ہے سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ جب بصرہ تشریف لائے تو فرمایا: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم کو تمہارے رب کی کتاب اور تمہاری سنت کی تعلیم دوں، اور تمہارے راستے کو صاف کر دوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 579]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لعنعنة الحسن البصري، [مكتبه الشامله نمبر: 579] »
حسن بصری کے عنعنہ اور صالح بن رستم کی وجہ سے اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبي شيبه 5974] ، لیکن اس کی سند میں بھی انقطاع ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لعنعنة الحسن البصري
حدیث نمبر: 580 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى ، زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ ، أَبِي دَاوُدَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ ، سَخْبَرَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُعَلَّى، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَخْبَرَةَ، عَنْ سَخْبَرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ، كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سخبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے علم کو طلب کیا تو جو کچھ گزر گیا اس کے لئے کفارہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 580]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «هذا إسناد فيه محمد بن حميد وهو ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 580] »
اس حدیث کی سند محمد بن حمید اور ابوداؤد نفیع بن الحارث کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 2650]
وضاحت
(تشریح احادیث 576 سے 580)
ان تمام احادیث و آثار میں علم حاصل کرنے، علم کو پھیلانے اور عام کرنے کی ترغیب ہے، جو الباقيات الصالحات میں سے ہے۔
الحكم: هذا إسناد فيه محمد بن حميد وهو ضعيف