بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس نے شہرت اور خاص پہچان کو ناپسند کیا اس کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ جس نے شہرت اور خاص پہچان کو ناپسند کیا اس کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 24
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 535 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "جَهَدْنَا بِإِبْرَاهِيمَ حَتَّى أَنْ نُجْلِسَهُ إِلَى سَارِيَةٍ، فَأَبَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: ہم نے امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کو مجبور کیا کہ انہیں ستون کے پاس بٹھا دیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 535]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 535] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [تاريخ أبى زرعه 1997] و [مصنف ابن أبى شيبه 6680]
وضاحت
(تشریح احادیث 529 سے 535)
یعنی انہیں کسی خاص جگہ بیٹھنے سے انکار تھا کہ یہ نہ کہا جائے کہ ابراہیم فلاں جگہ بیٹھتے تھے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 536 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ"أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يَسْتَنِدَ إِلَى السَّارِيَةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ بن مقسم سے مروی ہے کہ امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ ساریہ سے لگ کر بیٹھنا ناپسند کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 536]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 536] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 190/6] اس میں عفان: ابن مسلم ہیں اور ابوعوانہ کا نام وضاح بن عبداللہ ہے اور مغیرہ: ابن مقسم ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 537 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: "كَانَ إِبْرَاهِيمُ لَا يَبْتَدِئُ الْحَدِيثَ حَتَّى يُسْأَلَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مغیرہ بن مقسم نے کہا: امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کسی کے طلب کئے بنا حدیث بیان نہیں کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 537]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 537] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم و فضله 362] ، [طبقات ابن سعد 192/6]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 538 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، قَالَ: كَانَ الْحَارِثُ بْنُ قَيْسٍ الْجُعْفِيُّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، وَكَانُوا مُعْجَبِينَ بِهِ،"فَكَانَ يَجْلِسُ إِلَيْهِ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُحَدِّثُهُمَا، فَإِذَا كَثُرُوا، قَامَ وَتَرَكَهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
خیثمہ نے کہا: حارث بن قیس الجعفی جو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں سے تھے، اور لوگ ان پر فخر کیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک یا دو آدمی بیٹھتے تو انہیں کوئی حدیث بیان کرنے لگتے تھے، پھر جب ان کی تعداد بڑھ جاتی تو کھڑے ہو کر چلے جاتے اور انہیں چھوڑ دیتے۔ (یعنی زیادہ لوگوں میں شہرت پانا انہیں پسند نہ تھا)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 538]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 538] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور خیثمہ: ابن عبدالرحمٰن ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 539 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قِيلَ لَهُ حِينَ مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ قَعَدْتَ فَعَلَّمْتَ النَّاسَ السُّنَّةَ؟، فَقَالَ: "أَتُرِيدُونَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبِي؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو علقمہ (بن قیس) سے کہا گیا: کاش آپ (ابن مسعود کی جگہ) بیٹھیں اور لوگوں کو (ان کی طرح) سنت کی تعلیم دیں، کہا: کیا تم چاہتے ہو کہ میری ایڑی کچل دی جائے؟ (یعنی اپنے پیچھے آنے والوں سے میں فتنے میں پڑ جاؤں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 539]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 539] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 60/6] و [حلية الأولياء 100/2]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 540 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، ابْنُ إِدْرِيسَ ، هَارُونَ بْنَ عَنْتَرَةَ ، سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عُمَرُ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ هَارُونَ بْنَ عَنْتَرَةَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، قَالَ: أَتَيْنَا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ لِنَتَحَدَّثَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا، وَنَحْنُ نَمْشِي خَلْفَهُ، فَرَهَقَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَتَبِعَهُ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بِالدِّرَّةِ، قَالَ: فَاتَّقَاهُ بِذِرَاعَيْهِ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نَصْنَعُ؟، قَالَ: "أَوَ مَا تَرَى؟ فِتْنَةً لِلْمَتْبُوعِ، مَذَلَّةً لِلتَّابِعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سلیم بن حنظلہ نے کہا کہ ہم سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تاکہ بات چیت کریں، جب وہ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے اور ان کے پیچھے چلنے لگے، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہم سے قریب ہوئے اور ابی رضی اللہ عنہ کے پیچھے جا کر انہیں درے سے ضرب لگائی۔ راوی نے کہا: جسے انہوں نے اپنی کلائی سے روکا، اور کہا: اے امیر المؤمنین! کیا کرتے ہو؟ فرمایا: دیکھتے نہیں (یہ لوگوں کا پیچھے چلنا) متبوع کے لئے فتنہ اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلت و رسوائی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 540]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 540] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6366] ، [الزهد الكبير للبيهقي 303] ، [الجامع لأخلاق الراوي 931] و [حلية الأولياء 12/9]
وضاحت
(تشریح احادیث 535 سے 540)
یعنی متبوع جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہے کہ دل میں بڑا پن اور ریاء نہ آ جائے۔
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 541 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: "كَانُوا يَكْرَهُونَ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
منصور (بن المعتمر) سے مروی ہے کہ ابراہیم نے کہا: پیچھے پیچھے چلنے کو (اسلاف کرام) ناپسند کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 541]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 541] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم 158] ، [مصنف ابن أبى شيبه 5864]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 542 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ إِذَا مَشَى مَعَهُ الرَّجُلُ قَامَ، فَقَالَ: "أَلَكَ حَاجَةٌ؟ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ، قَضَاهَا، وَإِنْ عَادَ يَمْشِي مَعَهُ قَامَ، فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ؟".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بسطام بن مسلم نے کہا: امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ کے پیچھے جب کوئی آدمی چلتا تو وہ کھڑے ہو جاتے اور فرماتے: تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ اگر اس کی کوئی حاجت ہوتی تو پوری فرماتے، پھر بھی اگر وہ آپ کے پیچھے چلتا تو پوچھتے: کوئی اور حاجت ہے؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 542]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 542] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 267/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 540 سے 542)
یعنی وہ اپنے پیچھے کسی کا چلنا پسند نہ کرتے تھے، یہ ان لوگوں کے لئے باعثِ نصیحت ہے جو چاہتے ہیں کہ لوگ ان کے آگے پیچھے حاشیہ برداری کریں۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 543 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ أَنْ تُوطَأَ أَعْقَابُكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحمزہ سے مروی ہے ابراہیم نے کہا: اس سے ہوشیار رہو کہ تمہارے پیچھے چلا جائے۔ (یعنی اس سے بچنا کہ تمہارے نقشِ پا پر چلا جائے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 543]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة ميمون الأعور، [مكتبه الشامله نمبر: 543] »
اس روایت کی سند میں ابوحمزة میمون الاعور ضعیف ہیں، اور اسے صرف امام دارمی نے ذکر کیا ہے۔ ابونعیم: فضل بن دکین ہیں، (541) پر یہ روایت گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبي حمزة ميمون الأعور
حدیث نمبر: 544 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْهَيْثَمِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ أَنَّهُ رَأَى أُنَاسًا يَتْبَعُونَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْر، قَالَ: فَأُرَاهُ قَالَ: نَهَاهُمْ، وَقَالَ: "إِنَّ صَنِيعَكُمْ هَذَا أَوْ مَشْيَكُمْ هَذَا مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ، وَفِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے دیکھا کچھ لوگ سعید بن جبیر کے پیچھے چل رہے ہیں، راوی نے کہا: میرا خیال ہے عاصم نے کہا: انہوں نے انہیں اپنے پیچھے چلنے سے روکا اور فرمایا: تمہارا یہ فعل، یا کہا: تمہارا یہ میرے پیچھے چلنا متابعت کرنے والے کے لئے خواری ہے اور (متبوع) جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لئے فتنہ ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 544]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل عاصم بن ضمرة والهيثم بن حبيب الصيرفي، [مكتبه الشامله نمبر: 544] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 932] ، [العلم 123] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6364] ، [الزهد للبيهقي 304]
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم بن ضمرة والهيثم بن حبيب الصيرفي
حدیث نمبر: 545 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَسْوَدَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ: "شَاوَرْتُ مُحَمَّدًا فِي بِنَاءٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبْنِيَهُ فِي الْكَلَّاءِ، قَالَ: فَأَشَارَ عَلَيَّ، وَقَالَ: إِذَا أَرَدْتَ أَسَاسَ الْبِنَاءِ فَآذِنِّي حَتَّى أَجِيءَ مَعَكَ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَمْشِي إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَمَشَى مَعَهُ، فَقَامَ، فَقَالَ: أَلَكَ حَاجَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: أَمَّا لَا، فَاذْهَبْ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ، فَقَالَ: أَنْتَ أَيْضًا فَاذْهَبْ، قَالَ: فَذَهَبْتُ حَتَّى خَالَفْتُ الطَّرِيقَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عون نے کہا: میں نے محمد (ابن سیرین رحمہ اللہ) سے کھیت میں گھر بنانے کے بارے میں مشورہ کیا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: جب تمہارا بنیاد رکھنے کا ارادہ ہو تو مجھے خبر کرنا، لہٰذا جب میں ان کے پاس آیا اور ہم دونوں چلنے لگے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور ان کے پیچھے چلنے لگا، محمد رحمہ اللہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: جب کوئی حاجت نہیں ہے تو جاؤ، پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: جاؤ تم بھی جاؤ، لہٰذا میں بھی (انہیں چھوڑ کر) دوسرے راستے سے روانہ ہو گیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 545]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 545] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 267/2]
وضاحت
(تشریح احادیث 542 سے 545)
ان آثار سے معلوم ہوتا ہے اسلاف کرام شہرت سے اور اپنے پیچھے کسی کے چلنے سے احتیاط برتتے تھے کیوں کہ اپنے پیچھے شاگردوں یا متبعین کی بھیڑ دیکھ کر کبر و غرور کے فتنہ میں پڑنے کا اندیشہ بہت ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 546 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ نُسَيْرٍ، أَنَّ الرَّبِيعَ كَانَ إِذَا أَتَوْهُ، يَقُولُ: "أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّكُمْ"، يَعْنِي: أَصْحَابَهُ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نسیر (ابن ذعلوق) سے مروی ہے ربیع رحمہ اللہ کے پاس جب لوگ (ان کے شاگرد) آتے تو وہ کہتے تھے: میں تمہارے شر سے الله کی پناہ چاہتا ہوں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 546]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 546] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم 129] ، [زوائد نعيم بن حماد على زهد ابن المبارك 55]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 547 سنن دارمی
مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، الْأَعْمَشِ ، رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ ، خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تُحَدِّثُ أَصْحَابَكَ؟، قَالَ: "أَخَافُ أَنْ أَقُولَ لَهُمْ مَا لَا أَفْعَلُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن بشر نے کہا: ہم سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، ان کے شاگرد ان کے پاس آئے اور وہ چپ بیٹھے رہے، کہا گیا: کیا آپ اپنے شاگردوں کو حدیث بیان نہیں کریں گے؟ فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ ایسی چیز ان سے بیان کر دوں جس پر خود عمل نہیں کرتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 547]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده رجاء الأنصاري وهذا إسناد ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 547] »
اس روایت کی سند حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ ابوخیثمہ نے [العلم 16] میں اسے روایت کیا ہے، لیکن ان کی سند ضعیف ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 545 سے 547)
قول و عمل میں مطابقت ضروری ہے، اسی کے پیشِ نظر سیدنا خباب رضی اللہ عنہ نے احتیاط کیا کہ قول عمل کے خلاف نہ ہو۔
الحكم: في إسناده رجاء الأنصاري وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 548 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ صَالِحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: "وَدِدْتُ أَنِّي نَجَوْتُ مِنْ عَمَلِي كَفَافًا لَا لِي وَلَا عَلَيَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
صالح (بن صالح بن حي) نے کہا: میں نے امام شعبی رحمہ اللہ کو کہتے سنا: میری آرزو ہے کاش میں اپنے علم میں برابر سرابر ہی چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کچھ ملے (نہ مؤاخذہ ہو) نا گناہ کا مجھ پر بوجھ ہو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 548]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 548] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة للفسوي 592/2]
وضاحت
(تشریح حدیث 547)
ایسا شدتِ مؤاخذہ کے ڈر سے انہوں نے کہا: «﴿إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ﴾ [البروج: 12] » ترجمہ: بے شک تیرے رب کی پکڑ یقینا بہت سخت ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 549 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ابْنُ عَوْنٍ ، الْحَسَنِ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَمْشِي وَنَاسٌ يَطَئُونَ عَقِبَهُ، فَقَالَ: "لَا تَطَئُوا عَقِبِي، فَوَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أُغْلِقُ عَلَيْهِ بَابِي، مَا تَبِعَنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ جا رہے تھے کہ لوگ ان کے پیچھے چلنے لگے، انہوں نے فرمایا: میرے پیچھے نہ چلو، قسم الله کی اگر تم جان لو کہ میں کس وجہ سے اپنا دروازہ بند کر لیتا ہوں تو تم میں سے کوئی آدمی میرے پیچھے نہ آئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 549]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع الحسن لم يدرك ابن مسعود. وابن عون هو: عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 549] »
اس روایت کے رجال ثقات ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں۔ حوالہ کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6365] ، [المستدرك 316/3]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع الحسن لم يدرك ابن مسعود. وابن عون هو: عبد الله
حدیث نمبر: 550 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "فِتْنَةٌ لِلْمَتْبُوعِ، مَذَلَّةٌ لِلتَّابِعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے پیچھے چلا جا رہا ہے اس کے لئے فتنہ اور پیچھے چلنے والے کے لئے ذلت و خواری ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 550]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 550] »
اس روایت کی سند محمد بن حمید کی وجہ سے ضعیف ہے، اور تخریج رقم (544) پر گذر چکی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد
حدیث نمبر: 551 سنن دارمی
شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، سُفْيَانُ ، أُمَيٍّ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أُمَيٍّ، قَالَ: مَشَوْا خَلْفَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: "عَنِّي خَفْقَ نِعَالِكُمْ، فَإِنَّهَا مُفْسِدَةٌ لِقُلُوبِ نَوْكَى الرِّجَالِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اُمی (بن ربیعہ) نے کہا: لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل رہے تھے، انہوں نے کہا: مجھ سے اپنے جوتوں کی چراہٹ دور رکھو، کیونکہ یہ بے وقوف و عاجز لوگوں کے دلوں کو خراب کر دینے والی (چیز) ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 551]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 551] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 899] ، لیکن ابن عبدالبر نے اسے تعلیقاً روایت کیا ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 552 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: "إِنَّ خَفْقَ النِّعَالِ حَوْلَ الرِّجَالِ قَلَّ مَا يُلَبِّثُ الْحَمْقَى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن حازم سے مروی ہے کہ میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ کو سنا، وہ فرماتے تھے: لوگوں کے پیچھے جوتے چرانا بے وقوفوں کو علم میں اضافے سے باز رکھتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 552]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 552] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 934] ، [طبقات ابن سعد 122/1/7] ، [زيادات نعيم بن حماد على زهد بن المبارك 50]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 553 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا قَاسِمُ هُوَ ابْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: "كَانَ إِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ أَوْ الرَّجُلَانِ، قَامَ فَتَنَحَّى".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث نے بیان کیا کہ امام طاؤوس رحمہ اللہ کے پاس جب ایک یا دو آدمی آ بیٹھتے تو وہ کھڑے ہو کر وہاں سے پرے ہٹ جاتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 553]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم، [مكتبه الشامله نمبر: 553] »
اس روایت کی سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف ہیں، اور امام دارمی کے علاوہ اسے کسی نے روایت نہیں کیا۔ نیز اسی طرح کی روایت (538) میں گذر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 548 سے 553)
ان تمام روایات سے سلف صالحین کی تواضع اور خاکساری ظاہر ہوتی ہے، انہیں شہرت قطعاً پسند نہ تھی اسی لئے اپنے آگے پیچھے بھیڑ لگانا وہ پسند نہیں کرتے تھے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث وهو: ابن أبي سليم
حدیث نمبر: 554 سنن دارمی
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ
أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ عُمُرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَا فَعَلَ بِهِ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ جِسْمِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی بھی بندے کے قدم (قیامت) کے دن نہ ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے پوچھ نہ لیا جاوے کہ اپنی عمر کس میں گزاری؟ اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟ مال کہاں سے کمایا اور کس میں خرچ کیا؟ اور جسم کو کس (کام) میں لگایا؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 554]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش والحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 554] »
اس روایت کی یہ سند حسن ہے، لیکن حدیث کا متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن الترمذي 2417] ، [المعجم الأوسط 2212] ، [مسند أبى يعلی 7434] ، [مجمع البحرين 4783] و [مجمع الزوائد 346/10]
الحكم: إسناده حسن من أجل أبي بكر بن عياش والحديث صحيح