بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
لوگوں کو اکتا دینے سے ناپسندیدگی کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ لوگوں کو اکتا دینے سے ناپسندیدگی کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 461 سنن دارمی
عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاق ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "لَا تُمِلُّوا النَّاسَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو زچ نہ کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 461]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 461] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 99] و [الجامع لأخلاق الراوي 1422]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 462 سنن دارمی
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَشْعَثُ ، كُرْدُوسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ، عَنْ كُرْدُوسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّ لِلْقُلُوبِ لَنَشَاطًا وَإِقْبَالًا، وَإِنَّ لَهَا تَوْلِيَةً وَإِدْبَارًا، فَحَدِّثُوا النَّاسَ مَا أَقْبَلُوا عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں پر سرور و چاہت بھی طاری ہوتی ہے، اور بےکیفی و خمول بھی، سو تم لوگوں سے اس وقت حدیث بیان کرو جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں (یعنی چاہت و نشاط میں ہوں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 462]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 462] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ حوالہ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 750] ، [مصنف ابن أبى شيبه 69/9] ، أبونعیم نے [حلية الأولياء 134/1] میں دوسری سند سے اس کو روایت کیا ہے جس کے رواة ثقات ہیں لیکن اس میں اعضال ہے۔
حدیث نمبر: 463 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: كَانَ يُقَالُ: "حَدِّثْ الْقَوْمَ مَا أَقْبَلُوا عَلَيْكَ بِوُجُوهِهِمْ، فَإِذَا الْتَفَتُوا، فَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ حَاجَاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوہلال الراسی نے کہا: میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ کو کہتے سنا: یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو اس وقت حدیث سناؤ جب وہ تمہاری طرف (چاہت سے) متوجہ ہوں، اور اگر ادھر ادھر التفات کریں تو سمجھ لو کہ ان کی کچھ ضروریات ہیں (یعنی سماع حدیث کے لئے یک سو نہیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 463]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى الحسن حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 463] »
حسن بصری رحمہ اللہ تک یہ سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 69/9]
الحكم: إسناده إلى الحسن حسن