بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
علم اور عالم کی فضیلت کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ علم اور عالم کی فضیلت کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 40
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 349 سنن دارمی
الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي أُمَامَةَ
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "سَتَكُونُ فِتَنٌ يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، وَيُمْسِي كَافِرًا، إِلَّا مَنْ أَحْيَاهُ اللَّهُ بِالْعِلْمِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوامامۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب اتنے فتنے رونما ہوں گے جس میں صبح کو آدمی مومن ہو گا تو شام میں کافر ہو جائے گا، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ علم کے ساتھ زندہ رکھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 349]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف علي بن يزيد، [مكتبه الشامله نمبر: 350] »
اس روایت کی سند علی بن یزید کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے: [ابن ماجه 3954] ، [المعجم الكبير 278/8، 7910] ، [كنز العمال 30883]
وضاحت
(تشریح احادیث 341 سے 349)
یعنی علم کی وجہ سے انسان فتنوں سے محفوظ رہے گا، اور فتنوں سے مراد ہر قسم کے فتنے ہیں جو دین، ایمان اور عقیدے سے بھی تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انسان کو کتاب و سنّت کا علم ضرور حاصل کرنا چاہئے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف علي بن يزيد
حدیث نمبر: 350 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ رِئَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا، وَلَا تَغْدُ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ، فَإِنَّ مَا بَيْنَ ذَلِكَ جَاهِلٌ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَبْسُطُ أَجْنِحَتَهَا لِلرَّجُلِ غَدَا يَبْتَغِي الْعِلْمَ مِنْ الرِّضَاءِ بِمَا يَصْنَعُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہارون بن رباب نے کہا سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: یا عالم بنو یا متعلم، ان دونوں کے درمیانی نہ بنو اس لئے کہ ان دونوں کے درمیان (کے لوگ) جاہل ہیں۔ بیشک فرشتے ایسے آدمی کے فعل سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں جو علم حاصل کرنے کے لئے نکلتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 350]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع هارون بن رئاب لم يدرك ابن مسعود، [مكتبه الشامله نمبر: 351] »
اس اثر کی سند کے سب رواة ثقات ہیں، لیکن ہارون بن رباب نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اس لیے یہ روایت منقطع ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ 399/3] ، [جامع بيان العلم 146] اس کا شاہد صحیح موجود ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (254)۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع هارون بن رئاب لم يدرك ابن مسعود
حدیث نمبر: 351 سنن دارمی
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلَيْنِ كَانَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ: أَحَدُهُمَا كَانَ عَالِمًا يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ، ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، وَالْآخَرُ يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "فَضْلُ هَذَا الْعَالِمِ الَّذِي يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ثُمَّ يَجْلِسُ فَيُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ، عَلَى الْعَابِدِ الَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ، كَفَضْلِي عَلَى أَدْنَاكُمْ رَجُلًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، ایک ان میں سے عالم تھا جو نماز پڑھتا اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا، دوسرا آدمی دن کو روزے رکھتا اور رات میں قیام کرتا، ان دونوں میں سے کون افضل ہے؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس عالم کی فضیلت جو نماز پڑھتا ہے اور پھر بیٹھ کر لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے، اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا اور رات میں تہجد پڑھتا ہے، ایسی ہی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ایک ادنیٰ آدمی پر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 351]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع: ما عرفنا للأوزاعي رواية عن الحسن وهو مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 352] »
اس روایت کی سند میں انقطاع اور ارسال ہے، اوزاعی کا لقاء حسن بصری سے ثابت نہیں، اور حسن بصری نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ «وانفرد به الدارمي» ۔
وضاحت
(تشریح احادیث 349 سے 351)
یہ حسن بصری کا قول ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کے ساتھ تعلیم دینا بہت کارِ فضیلت ہے، اور ایسا معلم عابد سے بہت زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع: ما عرفنا للأوزاعي رواية عن الحسن وهو مرسل أيضا
حدیث نمبر: 352 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا الأَسْودَ بْنُ سَرِيع يَقُصُّ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَذْكُرُ الْعِلْمَ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ، فَمَيَّلْتُ إِلَى أَيِّهِمَا أَجْلِسُ، فَنَعَسْتُ، فَأَتَانِي آتٍ، فَقَالَ: مَيَّلْتَ إِلَى أَيِّهِمَا تَجْلِسُ؟ إِنْ شِئْتَ أَرَيْتُكَ مَكَانَ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ مِنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابن سیرین رحمہ اللہ نے کہا: میں مسجد میں داخل ہوا (تو دیکھا) اسود بن سریع قصہ بیان کر رہے ہیں، اور حمید بن عبدالرحمٰن مسجد کے ایک گوشے میں علمی گفتگو کر رہے ہیں، مجھے تردد ہوا کہ کون سے حلقے میں جا کر بیٹھوں؟ مجھے اونگھ آ گئی اور ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا: تمہیں تردد ہے کہ کہاں بیٹھو؟ اگر تم چاہو تو میں تمہیں حمید بن عبدالرحمٰن کے حلقے میں جبریل علیہ السلام کے بیٹھنے کی جگہ بتاؤں؟ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 352]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف الحسن بن ذكوان متهم بالتدليس وقد عنعن وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 353] »
اس روایت میں حسن بن ذکوان مدلس ہیں، اور روایت معنعن ہے، ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 219] میں اسے ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 351)
اس سے معلوم ہوا علمی مجالس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، گرچہ یہ ابن سیرین کا قول ہے لیکن حدیث: «مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ» سے اس کی تائید ہوتی ہے جو رقم (367) پرآگے آرہی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف الحسن بن ذكوان متهم بالتدليس وقد عنعن وباقي رجاله ثقات
حدیث نمبر: 353 سنن دارمی
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ ، عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ ، دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ ، كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ جَمِيلٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنِّي أَتَيْتُكَ مِنْ الْمَدِينَةِ، مَدِينَةِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَدِيثٍ بَلَغَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَا جَاءَ بِكَ تِجَارَةٌ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا جَاءَ بِكَ غَيْرُهُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ بِهِ عِلْمًا، سَهَّلَ اللَّهُ بِهِ طَرِيقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، وَإِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ، لَيَسْتَغْفِرُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْمَاءِ، وَإِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَى الْعَابِدِ كَفَضْلِ الْقَمَرِ عَلَى سَائِرِ النُّجُومِ، إِنَّ الْعُلَمَاءَ هُمْ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ، إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُوَرِّثُوا دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَإِنَّمَا وَرَّثُوا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَ بِهِ أَخَذَ بِحَظِّهِ، أَوْ بِحَظٍّ وَافِرٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن قیس نے کہا: میں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے ابودرداء! میں آپ کے پاس مدينۃ الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہوں اس حدیث کے لئے جس کے بارے میں مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ (اسے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا: تم تجارت کے واسطے آئے ہو؟ کہا: نہیں۔ فرمایا: اور کوئی چیز بھی تمہیں یہاں نہیں لائی؟ کہا: نہیں، فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے ہیں: جو شخص کسی راستے میں علم کی تلاش میں نکلا تو الله تعالیٰ اس کے لئے اس کے ذریعہ جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم سے خوش ہو کر اس کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں، اور بیشک طالب علم کے لئے جو زمین آسمان میں ہیں مغفرت طلب کرتے ہیں یہاں تک کہ مچھلیاں بھی پانی میں (طالب علم کے لئے مغفرت طلب کرتی ہیں) اور بیشک عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر، بیشک علماء انبیاء کے وارث ہیں، انبیاء نے یقیناً دینار و درہم کا ورثہ نہیں چھوڑا بلکہ علم کا ورثہ چھوڑا ہے، پس جس نے علم حاصل کیا اس نے اپنا نصیب یا وافر نصیب حاصل کر لیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 353]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 354] »
اس سند سے یہ حدیث ضعیف ہے، لیکن اس کے شواہد موجود ہیں۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3641] ، [ترمذي 2682] ، [ابن ماجه 223] ، [مسند أحمد 196/5] ، [مشكل الآثار 429/1] ، [جامع بيان العلم 173، 174] ، [سنن البيهقي 1697] ، [الترغيب والترهيب 94/1] وغيرهم۔
وضاحت
(تشریح حدیث 352)
اس حدیث میں علم اور عالم اور متعلم کی فضیلت بیان کی گئی ہے جس کے لئے زمین و آسمان کی تمام مخلوق استغفار کرتی ہے۔
الحكم: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 354 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ ، الْأَعْمَشِ ، شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْفَزَارِيِّ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ، حَتَّى الْحُوتُ فِي الْبَحْرِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لئے ہر چیز مغفرت طلب کرتی ہے، حتی کہ سمندر کی مچھلیاں بھی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 354]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد وهو موقوف على ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 355] »
یہ سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے اور اُن تک سند جید ہے، مرفوع روایت بھی موجود ہے جیسا کہ گذر چکا ہے، حوالہ کے لئے دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6164] و [جامع بيان العلم 796]
الحكم: إسناده جيد وهو موقوف على ابن عباس
حدیث نمبر: 355 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْلُكُ طَرِيقًا يَطْلُبُ فِيهِ عِلْمًا، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو بھی آدمی علم کی طلب میں کسی راستے میں چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس ذریعہ سے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے، اور جس کے ساتھ اس کے عمل نے دیر لگائی تو اس کے ساتھ اس کا نسب کچھ جلدی نہیں کرے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 355]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 356] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 2999] ، [أبوداؤد 3643] ، [ترمذي 2648] ، [مصنف ابن أبى شيبه 6168]
وضاحت
(تشریح احادیث 353 سے 355)
یعنی عملِ صالح کے بغیر نسب کام نہ آئے گا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 356 سنن دارمی
إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ ، يَعْقُوبَ هُوَ الْقُّمِّيُّ ، هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، عَنْ يَعْقُوبَ هُوَ الْقُّمِّيُّ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا سَلَكَ رَجُلٌ طَرِيقًا يَبْتَغِي فِيهِ الْعِلْمَ، إِلَّا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ يُبْطِئْ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہیں چلا کوئی آدمی علم کی تلاش میں کوئی راستہ مگر اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ جنت کا راستہ اس کے لئے آسان فرما دیا، اور جس کے ساتھ اس کے عمل نے تاخیر کی، اس کا عمل اس کے لئے جلدی نہ کرے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 356]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 357] »
اس اثر کی سند صحیح ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔ مزید دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6165] ، [شعب الإيمان 671]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 357 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مُطَر: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 17، قَالَ: "هَلْ مِنْ طَالِبِ خَيْرٍ فَيُعَانَ عَلَيْهِ؟"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مطر الوراق نے کہا: آیت شریفہ: « ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » [القمر: 17/54] کا مطلب ہے: کوئی طالب خیر ہے جس کی اعانت و مدد کی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 357]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء، [مكتبه الشامله نمبر: 358] »
اس کی سند میں محمد بن کثير ضعیف ہے۔ دیکھئے [تفسير طبري 96/27]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن كثير بن أبي عطاء
حدیث نمبر: 358 سنن دارمی
وأَخْبَرَنَا مَرْوَانُ، عَنْ ضَمْرَةَ، قَالَ:"طَالِبُ عِلْمٍ"..
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان سے روایت ہے ضمرة نے کہا: اس «(مُدَّكِّر)» سے مراد طالب علم ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 358]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 359] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [تفسير ابن كثير 453/7] ، [تفسير الطبري 97/27] ، [الدر المنثور 135/6] وغيرهم۔ نیز امام بخاری نے [بخاري 7551] سے قبل بھی اس اثر کو تعليقاً ذکر کیا ہے، حافظ ابن حجر نے [فتح الباري 521/13] میں کہا کہ فریابی نے اسے موصولاً ذکر کیا ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 359 سنن دارمی
إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ ، يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ ، عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو الدَّرْدَاءِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ هُوَ الْقُمِّيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ أَبُو الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا رَأَى طَلَبَةَ الْعِلْمِ، قَالَ: "مَرْحَبًا بِطَلَبَةِ الْعِلْمِ، وَكَانَ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بِكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عامر بن ابراہیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ جب طلاب العلم کو دیکھتے تو فرماتے «مرحبا بطلبة العلم» طلاب العلم کو مرحبا (خوش آمدید) کہتے اور فرماتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارے بارے میں وصیت کی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 359]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 360] »
یہ روایت معضل ہے، اور اس کے دو شاہد ہیں۔ دیکھئے: [المحدث الفاصل 20] و [شعب الايمان 1729] اس لئے قابل حجت ہوسکتی ہے۔
الحكم: رجاله ثقات غير أنه معضل
حدیث نمبر: 360 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِمَجْلِسَيْنِ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: "كِلَاهُمَا عَلَى خَيْرٍ، وَأَحَدُهُمَا أَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِهِ، أَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَدْعُونَ اللَّهَ، وَيَرْغَبُونَ إِلَيْهِ، فَإِنْ شَاءَ أَعْطَاهُمْ، وَإِنْ شَاءَ مَنَعَهُمْ، وَأَمَّا هَؤُلَاءِ فَيَتَعَلَّمُونَ الْفِقْهَ وَالْعِلْمَ، وَيُعَلِّمُونَ الْجَاهِلَ، فَهُمْ أَفْضَلُ، وَإِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"، قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فِيهِمْ.
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مسجد میں دو حلقوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: دونوں ہی خیر پر ہیں لیکن ایک مجلس دوسری مجلس سے افضل ہے، ایک مجلس کے لوگ اللہ تعالیٰ سے دعائیں اور التجائیں کر رہے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو عطاء فرما دے اور چاہے تو محروم رکھے، دوسری مجلس کے لوگ علم و فقہ سیکھ رہے ہیں اور جاہل کو سکھا رہے ہیں، اس لئے یہ افضل ہیں، اور میں بھی تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ راوی نے کہا پھر آپ بھی ان کے ساتھ تشریف فرما ہوئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 360]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده ضعيفان: عبد الرحمن بن زياد وعبد الرحمن بن رافع، [مكتبه الشامله نمبر: 361] »
اس حدیث کی سند میں عبدالرحمٰن بن زیاد اور عبدالرحمٰن بن رافع ضعیف ہیں، اس روایت کو ابن المبارک نے [ الزهد 1389] میں اور انہیں کے طریق سے طیالسی نے [المسند 82] میں اور خطیب نے [الفقيه والمتفقه 10/1] میں ذکر کیا ہے، ابن ماجہ نے بھی [سنن 229] میں اس کو ذکر کیا ہے، لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
الحكم: في إسناده ضعيفان: عبد الرحمن بن زياد وعبد الرحمن بن رافع
حدیث نمبر: 361 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، أَنَّهُ قَالَ لِابْنِهِ: "يَا بُنَيَّ، إِنَّ الْعِلْمَ خَيْرٌ مِنْ الْعَمَلِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مطرف بن عبداللہ الشخیر نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹے! علم عمل سے بہتر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 361]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والانقطاع عون بن عبد الله لا نعلم له رواية عن مطرف، [مكتبه الشامله نمبر: 362] »
عبدالرحمٰن بن عبدالله المسعودی اس روایت میں ضعیف ہیں، اور عون کا لقاء مطرف سے ثابت نہیں، لیکن [حلية الأولياء 209/2] میں اس کا صحیح شاہد موجود ہے، جس سے مطرف کے اس کلام کو تقویت ملتی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 355 سے 361)
یعنی عمل و عبادت اگر علم و بصیرت کے ساتھ ہو تو اس میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔
الحكم: إسناده فيه علتان: ضعف عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي والانقطاع عون بن عبد الله لا نعلم له رواية عن مطرف
حدیث نمبر: 362 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، أَخْبَرَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يَقُولُ: "لَيْسَ هَدِيَّةٌ أَفْضَلَ مِنْ كَلِمَةِ حِكْمَةٍ، تُهْدِيهَا لِأَخِيكَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
شرحبیل بن شریک نے ابوعبدالرحمٰن حبلی کو کہتے ہوئے سنا: تم اپنے بھائی کو حکمت کی بات کا جو ہدیہ دیتے ہو اس سے بہتر کوئی ہدیہ نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 362]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 363] »
اس قول کی سند صحیح ہے لیکن کہیں اور نہ مل سکی، نیز اس کے شواہد ملتے ہیں لیکن وہ بھی ضعف سے خالی نہیں۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1764] ، [جامع بيان العلم 323] ، [المقاصد الحسنة 938] ، [كشف الخفاء 2182] ، [معجم الطبراني الكبير 43/12، 12420]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 363 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَى الْمُجْتَهِدِ مِئَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ خَمْسُ مِئَةِ سَنَةٍ، حُضْرِ الْفَرَسِ الْمُضَمَّرِ السَّرِيعِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: عالم کی مجتہد پر فضیلت سو درجہ زیادہ ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان تیز دوڑنے والے مضمّر گھوڑوں کی پانچ سو سال کی مسافت ہے۔ (مضمّر وہ گھوڑا جس کو (ریسں) دوڑ کے لئے تیار کیا جائے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 363]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده إلى الزهري ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 364] »
یہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے جو سند کے لحاظ سے ضعیف ہے۔ [حلية الأولياء 365/3] میں مذکور ہے لیکن اس کی سند بھی کمزور ہے۔
الحكم: إسناده إلى الزهري ضعيف
حدیث نمبر: 364 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ سورة المجادلة آية 11، قَالَ: "يَرْفَعُ اللَّهُ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا بِدَرَجَاتٍ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: « ﴿يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ....﴾ » [المجادلة: 11/58] سے مراد وہ اہل علم ہیں جن کے درجات اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر بلند فرمائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 364]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 365] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المستدرك 481/2 وقال الحاكم: هذا حديث صحيح الاسناد ولم يخرجاه]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 365 سنن دارمی
بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ ، نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل ، عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ ، الْحَسَنِ
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَمْرِو بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الْإِسْلَامَ، فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی کی موت اس حال میں آئے کہ وہ احیائے اسلام کے لئے علم کی تلاش میں ہو تو انبیاء اور اس کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 365]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده مسلسل بالمجاهيل، [مكتبه الشامله نمبر: 366] »
حسن بصری رحمہ اللہ کی طرف منسوب اس قول میں کئی راوی مجہول ہیں، اور دیگر کتب میں بھی یہ اثر منقول ہے، لیکن سب کے طرق ضعیف ہیں۔ دیکھے: [المعجم الأوسط 9450] ، [تاريخ بغداد 78/3] و [مجمع الزوائد 511]
الحكم: إسناده مسلسل بالمجاهيل
حدیث نمبر: 366 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مِهْرَانُ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، قَالَ: "ذَهَبَ عُمَرُ بِثُلُثَيْ الْعِلْمِ"، فَذَكَرْتُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ:"ذَهَبَ عُمَرُ بِتِسْعَةِ أَعْشَارِ الْعِلْمِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دو ثلث لے گئے، عمرو نے کہا یہ بات ابراہیم نخعی سے ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ علم کے دس میں سے نو حصے لے گئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 366]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: ضعف محمد بن حميد وأبو سنان سعيد بن سنان متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي، [مكتبه الشامله نمبر: 367] »
اس روایت میں محمد بن حمید ضعیف اور ابوسنان سعید بن سنان کا ابواسحاق سبیعی سے سماع مؤخر ہے، اور اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے ذکر نہیں کیا، البتہ ابراہیم نخعی کا قول ابوخیثمہ کی کتاب [العلم 61] میں مذکور ہے۔
الحكم: في إسناده علتان: ضعف محمد بن حميد وأبو سنان سعيد بن سنان متأخر السماع من أبي إسحاق السبيعي
حدیث نمبر: 367 سنن دارمی
بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، هَارُونَ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ هَارُونَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ، يَتَذَاكَرُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَيَتَدَارَسُونَهُ بَيْنَهُمْ، إِلَّا أَظَلَّتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَبْتَغِي بِهِ الْعِلْمَ، سَهَّلَ اللَّهُ طَرِيقَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ أَبْطَأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو لوگ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہوں، اللہ کی کتاب پڑھیں (دہرائیں) اور دوسروں کو پڑھائیں تو فرشتے ان کو اپنے پروں کے سایہ میں لے لیتے ہیں یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور جو شخص علم حاصل کرنے کی راہ چلے، الله تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ سہل کر دے گا، اور جس کا عمل کوتاہی کرے تو اس کا نسب (خاندان) کچھ کام نہ آوے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 367]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 368] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے موصولاً بھی مروی ہے۔ دیکھئے: [صحيح مسلم 2699] ، [ابوداؤد 1455] ، [ترمذي 2945] ، [شعب الإيمان 671] ۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (357)۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 368 سنن دارمی
عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، زرٍّ ، صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زرٍّ، قَالَ: غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ؟، قُلْتُ: ابْتِغَاءُ الْعِلْمِ، قَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ؟، قُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: "إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ الْعِلْمِ، رِضًا بِمَا يَطْلُبُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ذِرّ سے مروی ہے کہ میں صفوان بن عسال مرادی کے پاس گیا (کیونکہ) میں ان سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا، انہوں نے فرمایا: تمہیں میرے پاس کیا چیز لائی ہے؟ میں نے کہا: علم کی تلاش، انہوں نے فرمایا: کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سنا دوں؟ میں نے عرض کیا: ضرور سنایئے، تو انہوں نے مرفوعاً بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بیشک فرشتے علم طلب کرنے والے کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، جو وہ طلب کر رہا ہے اس سے پسندیدگی کے طور پر۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 368]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 369] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1319] ، [مسند الحميدي 906] ، [العلم لأبي خيثمه 5]
وضاحت
(تشریح احادیث 361 سے 368)
ان تمام روایات سے علم حاصل کرنے کی ترغیب اور عالمِ دین کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
الحكم: إسناده حسن