بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ غلطی میں پڑ جانے کے خوف سے فتویٰ دینے سے گریز کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 22
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 293 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ الْخَلِيلِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، قَالَ: "كُنْتُ فِي حَلْقَةٍ فِيهَا الْمَشْيَخَةُ وَهُمْ يَتَرَاجَعُونَ، فِيهِمْ عَابِدُ بْنُ عَمْرٍو، فَقَالَ شَابٌّ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ: أَفِيضُوا فِي ذِكْرِ اللَّهِ، بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمْ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فِي أَيِّ شَيْءٍ رَآنَا؟ ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ فَمُرَّ، لَئِنْ عُدْتَ، لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
معاویہ بن قرہ نے کہا: میں مشائخ کے حلقہ میں تھا جو عابد بن عمرو سے رجوع کر رہے تھے، ایک طرف بیٹھے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: (لوگو) اللہ کے ذکر میں مشغول ہو جاؤ «بارك الله فيكم»، لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، آیا اس نے ہم کو کس چیز میں مشغول دیکھا ہے؟ پھر ان میں سے کسی نے کہا: تمہیں کس نے اس کا حکم دیا؟ جاؤ بھاگو، اگر پھر ایسا کہا تو ہم تمہیں دیکھ لیں گے، ضرور دیکھیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 293]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 294] »
اس روایت کی سند میں خلیل بن مرہ ضعیف باقی رجال ثقہ ہیں۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 294 سنن دارمی
يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو عَامِرٍ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّه
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ، أَنْبَأَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّه: "نِعْمَ الْمَجْلِسُ مَجْلِسٌ تُنْشَرُ فِيهِ الْحِكْمَةُ، وَتُرْجَى فِيهِ الرَّحْمَةُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عون بن عبداللہ نے کہا: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتنی اچھی ہے وہ مجلس جس میں حکمت بکھیری جائے اور اس میں رحمت کی آس لگائی جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 294]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات غير أنه منقطع عون بن عبد الله لم يسمع من عبد الله فيما نعلم، [مكتبه الشامله نمبر: 295] »
اس روایت کے رجال ثقہ ہیں، لیکن اس میں انقطاع ہے، عون بن عبداللہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پایا ہی نہیں، اور یہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نہیں ہو سکتا۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 775] ، [جامع بيان العنم 215]
الحكم: رجاله ثقات غير أنه منقطع عون بن عبد الله لم يسمع من عبد الله فيما نعلم