بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرنے میں احتیاط اور خوب چھان بین کرنے کا بیان
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث روایت کرنے میں احتیاط اور خوب چھان بین کرنے کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 237 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، هُشَيْمٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 237]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح ومحمد بن عيسى هو ابن نجيح وقد صرح هشيم بالتحديث، [مكتبه الشامله نمبر: 237] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبة 6302] ، [مسند أحمد 303/3] ، [ابن ماجه 33] ، [مسند أبى يعلی 1847]
الحكم: إسناده صحيح ومحمد بن عيسى هو ابن نجيح وقد صرح هشيم بالتحديث
حدیث نمبر: 238 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْأَعْلَى ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 238]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى وهو: ابن عامر الثعلبي، [مكتبه الشامله نمبر: 238] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، لیکن صحیح شاہد موجود ہے۔ اس لئے معنی صحیح ہے جیسا کہ اوپر گزرا، نیز دیکھئے: [مشكل الآثار 167/1]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الأعلى وهو: ابن عامر الثعلبي
حدیث نمبر: 239 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الزُّبَيْرِ
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ حَدَّثَ عَنِّي كَذِبًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے سنا: جو کوئی میری نسبت سے جھوٹی حدیث بیان کرے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 239]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح كاتب الليث غير أن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 239] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، لیکن معنی صحیح ہے جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث کی تخریج میں گزر چکا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔ دیکھئے: [صحيح بخاري 107] ، [ابن ماجه 36] ، [مصنف ابن أبي شيبه 6292] و [مسند أحمد 165/1]
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن صالح كاتب الليث غير أن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 240 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ ، عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي الصَّبَّاحُ بْنُ مُحَارِبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمر بن عبدالله بن یعلی بن مرہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے اسے چاہیے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 240]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده محمد بن حميد وعمر بن عبد الله بن يعلى بن مرة وعبد الله بن يعلى وهم ضعفاء. ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 240] »
اس روایت کی سند ضعیف لیکن متن صحیح ہے۔ دیکھئے: [مجمع الزوائد 651 وكما مر آنفا]
الحكم: في إسناده محمد بن حميد وعمر بن عبد الله بن يعلى بن مرة وعبد الله بن يعلى وهم ضعفاء. ولكن الحديث صحيح
حدیث نمبر: 241 سنن دارمی
أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، شُعْبَةُ ، عَتَّابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَتَّابٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ أُخْطِئَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِأَشْيَاءَ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَاكَ أَنِّي سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عتاب نے کہا، میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: اگر مجھے غلطی کر جانے کا خوف نہ ہوتا تو میں ایسی چیزیں بیان کرتا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہیں یا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، اور یہ اس لئے (یعنی بیان نہ کرنے سے احتراز) کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے سنا: جو کوئی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 241]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 241] »
اس روایت کی سند صحیح مرفوع ومتفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 107] ، [مسلم فى المقدمة 3] ، [مسند الطيالسي 97] ، [مسند أبى يعلی 2909] ، [مجمع الزوائد 635]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 242 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، وَعَنْ التَّيْمِيِّ ، وَعَنْ عَتَّابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَعَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَعَنْ التَّيْمِيِّ، وَعَنْ عَتَّابٍ مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ، سَمِعُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن ہرمز کے آزاد کردہ غلام عتاب سے مروی ہے، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 242]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 242] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6290] ، [مسند أحمد 113/3] و [مشكل الآثار 166/1-168]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 243 سنن دارمی
أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِيَّاكُمْ وَكَثْرَةَ الْحَدِيثِ عَنِّي، فَمَنْ قَالَ عَلَيَّ، فَلَا يَقُلْ إِلَّا حَقًّا أَوْ إِلَّا صِدْقًا، وَمَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوقتاده رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو منبر پر کہتے سنا: لوگو! مجھ سے حدیث زیادہ روایت کرنے سے بچو، اگر کسی کو جرات ہی ہے تو سچی بات بیان کرے، جس نے بھی میرے حوالے سے ایسی بات بیان کی جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم کو اپنا ٹھکانا بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 243]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أحمد وغيره فانتفت شبهة التدليس، [مكتبه الشامله نمبر: 243] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 6295] ، [مسند أحمد 297/5] ، [ابن ماجه 35] ، [المحدث الفاصل 754] ، [مشكل الآثار 172/1] و [المستدرك 111/1]
الحكم: إسناده صحيح محمد بن إسحاق صرح بالتحديث عند أحمد وغيره فانتفت شبهة التدليس
حدیث نمبر: 244 سنن دارمی
هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 244]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 244] »
یہ صحیح حدیث ہے، تخریج اوپر گزر چکی ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 236 سے 244)
یہ حدیث متفق علیہ اور بہت سارے طرق سے مروی ہونے کی وجہ سے تواتر کے درجہ کو پہنچتی ہے۔
مطلب اس کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کرنا جو آپ نے نہیں کہی ہو اپنا ٹھکانا جہنم میں بنانا ہے۔
«(أعاذنا اللّٰه وإياكم منه)»
ان احادیث میں ایک طرف حدیث بیان کرنے میں شدید احتیاط کا حکم ہے تو دوسری طرف صحیح احادیث بیان کرنے کا حکم اور اس کی ترغیب بھی ہے۔
الحكم: إسناده صحيح