بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ ان لوگوں کا بیان جنہوں نے فتوی دینے سے خوف کھایا اور غلو و زیادتی یا بدعت ایجاد کرنے کو برا سمجھا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 27
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 152 سنن دارمی
يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ فَتًى: مَا تَقُولُ يَا عَمَّاهُ فِي كَذَا وَكَذَا؟، قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، أَكَانَ هَذَا؟، قَالَ: لَا، قَالَ: "فَأَعْفِنَا حَتَّى يَكُونَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
مسروق نے کہا: میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ چل رہا تھا کہ ایک جوان نے کہا: چچا جان! آپ اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کہا بھتیجے! کیا ایسا (معاملہ) ہو چکا ہے؟ عرض کیا: نہیں، تو انہوں نے جواب دیا: اگر نہیں ہوا تو ہمیں معاف رکھو، یہاں تک کہ ایسا معاملہ وقوع پذیر ہو جائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 152]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 152] »
یہ روایت صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 76] ، [الفقيه والمتفقه 8/2] ، [الإبانة 315] ، [جامع بيان العلم 1604]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 153 سنن دارمی
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "كَانَ إِبْرَاهِيمُ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يُجِبْ فِيهِ إِلَّا جَوَابَ الَّذِي سُئِلَ عَنْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ سے جب مسائل دریافت کئے جاتے تو صرف انہیں مسائل کا جواب دیتے جو پہلے آپ سے پوچھے جا چکے ہوتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 153]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 153] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور یہ [حلية الأولياء 219/4] میں موجود ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 154 سنن دارمی
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ"أَنَّهُ كَانَ لَا يُفْتِي فِي الْفَرْجِ بِشَيْءٍ فِيهِ اخْتِلَافٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن حسان نے کہا: امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ شرم گاہ سے متعلق مختلف فیہ مسائل میں فتویٰ نہیں دیتے تھے۔ (یعنی نکاح و طلاق کے مختلف فیہ مسائل میں۔ واللہ اعلم) [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 154]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 154] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن اس کو امام دارمی کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کیا۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 155 سنن دارمی
مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، الصَّلْتُ بْنُ رَاشِدٍ ، طَاوُسًا ، أَصْحَابَنَا ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ طَاوُسًا عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ لِي: كَانَ هَذَا؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: آللَّهِ، قُلْتُ: آللَّهِ، ثُمّ قَالَ: إِنَّ أَصْحَابَنَا أَخْبَرُونَا عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ، لَا تَعْجَلُوا بِالْبَلَاءِ قَبْلَ نُزُولِهِ , فَيُذْهَبُ بِكُمْ هَهُنَا وَهَهُنَا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَعْجَلُوا بِالْبَلَاءِ قَبْلَ نُزُولِهِ، لَمْ يَنْفَكَّ الْمُسْلِمُونَ أَنْ يَكُونَ فِيهِمْ مَنْ إِذَا سُئِلَ، سُدَّدَ، وَإِذَا قَالَ , وُفِّقَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
صلت بن راشد نے کہا: میں نے امام طاؤوس رحمہ اللہ سے کسی مسئلہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا یہ مسئلہ وقوع پذیر ہوا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، تو کہا: قسم کھاؤ ایسا ہو چکا ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم ایسا ہو چکا ہے، پھر انہوں نے کہا: ہمارے ساتھیوں نے ہمیں سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ خبر دی ہے کہ انہوں نے کہا: بلاء و مصیبت کے سلسلہ میں اس کے نزول سے پہلے جلد بازی نہ کرو، ہو سکتا ہے وہ تمہیں ادھر ادھر بھٹکا لے جائے، اگر تم مصیبت کے نزول سے پہلے جلد بازی نہ کرو گے تو اس سے بچ نہ سکو گے جب ایسے لوگ رہیں گے جن سے پوچھا جائے تو صحیح جواب دیں اور جب کہیں تو صحیح کہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 155]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 155] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور اثر رقم (118) میں گزر چکی ہے۔ نیز دیکھئے: [الإبانة لابن بطة 293]
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 156 سنن دارمی
بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَهُ رَمَضَانَانِ، فَقَالَ: أَكَانَ أَوْ لَمْ يَكُنْ؟، قَالَ: لَمْ يَكُنْ بَعْدُ، فَقَالَ: اتْرُكْ بَلِيَّتَهُ حَتَّى تَنْزِلَ، قَالَ: فَدَلَسْنَا لَهُ رَجُلًا، فَقَالَ: قَدْ كَانَ، فَقَالَ "يُطْعِمُ عَنْ الْأَوَّلِ مِنْهُمَا ثَلَاثِينَ مِسْكِينًا، لِكُلِّ يَوْمٍ مِسْكِينٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن میمون نے اپنے والد سے انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو دو مرتبہ رمضان کے مہینے پائے اور (روزہ نہ رکھے)، انہوں نے کہا: کیا ایسا ہو چکا ہے یا نہیں؟ میمون نے کہا: نہیں، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسی نزول سے پہلی بلا کو جانے دو (یعنی جو چیز واقع نہیں ہوئی اس کے بارے میں سوال نہ کرو)، لہٰذا ہم نے ایک شخص کے بارے میں جھوٹ موٹ کہا کہ اسے یہ مسئلہ درپیش ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ پہلے رمضان کے تیس روزوں کے بدلے میں مسکینوں کو کھانا کھلائے ہر دن ایک مسکین کو کھانا کھلائے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 156]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 156] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [سنن البيهقي 253/4] ، [مصنف عبدالرزاق 7628] ، [سنن دارقطني 196/2] ، [المجموع 363/6] ، [معرفة السنن والآثار 306/6]
وضاحت
(تشریح احادیث 150 سے 156)
ان تمام آثار سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلاف کرام فرضی مسائل میں نہیں الجھتے تھے اور صرف پیش آمده مسائل ہی کا جواب دیتے تھے اور اختلافی مسائل میں فتویٰ دینے سے بھی گریز کرتے تھے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ کے نیک، راست باز، توفیق و صحیح سوجھ بوجھ والے بندے ہمیشہ موجود رہیں گے۔
( «جعلنا اللّٰه واياكم منهم.» آمین)
ایسا شخص جس نے بلا عذرِ شرعی دو بار رمضان کے روزے نہیں رکھے اس پر کفارہ اور قضا دونوں ہے، یعنی ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور ساٹھ دن کے روزے رکھے۔
دیکھئے: [المغني لابن قدامة 401/4] ۔
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 157 سنن دارمی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ ، إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ ، الْعُمَرِيُّ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: كُنْتُ أَجْلِسُ بِمَكَّةَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ يَوْمًا، وَإِلَى ابْنِ عَبَّاس رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَوْمًا، فَمَا يَقُولُ ابْنُ عُمَرَ فِيمَا يُسْأَلُ "لَا عِلْمَ لِي، أَكْثَرُ مِمَّا يُفْتِي بِهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عبید بن جریج نے کہا کہ میں مکہ میں ایک دن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس اور ایک دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا، میں نے دیکھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فتوی دینے سے زیادہ اکثر مسائل میں کہتے رہے: «لاعلم لي» کہ مجھے اس بارے میں علم نہیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 157]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 157] »
اس روایت کی سند حسن کے درجہ کو پہنچتی ہے۔ دیکھئے: [الفقيه والمتفقه 172/2] ، اور العمری کا نام عبداللہ بن عمر بن حفص ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 156)
اس حدیث سے ان دونوں جلیل القدر صحابہ کرام کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، نیز یہ کہ مسائل اور فتویٰ دینے میں جلد بازی یا یہ ثابت کرنے سے کہ مسئول عنہ بہت ذی علم ہے گریز کرنا چاہیے، جیسا کہ اسلاف کرام کے طریق سے ثابت ہوتا ہے، اور «لا علم لي» یا «لا أعلم» کہنے سے کسی کی عزت اور اس کے مرتبے میں کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ بعض اسلاف نے یہ کہنا بھی نصف علم کہا ہے۔
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 158 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "تَعَلَّمُوا، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يُخْتَلفُ إِلَيْهِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابووائل سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: علم حاصل کرو، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ کب اس کے پاس سوال و فتوے کے لئے لوگ آئیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 158]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 158] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: حديث رقم (144)۔ نیز اس روایت کو ابن عبدالبر نے [جامع بيان العلم 510] میں، ابوخيثمہ نے [ العلم 8] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 157)
اس میں علم کی اہمیت و ضرورت بیان کی گئی ہے۔
ابووائل، شقیق بن سلمہ ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح