بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
Sunan Darimi
کتب سنن دارمی مقدمہ ایسا فتوی دینے سے احتیاط برتنے کا بیان جس کے بارے میں قرآن و حدیث سے دلیل نہ ہو
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 21
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 122 سنن دارمی
مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ هُوَ ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: "مَا زَالَ أَمْرُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُعْتَدِلًا لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ حَتَّى نَشَأَ فِيهِمْ الْمُوَلَّدُونَ، أَبْنَاءُ سَبَايَا الْأُمَمِ، أَبْنَاءُ النِّسَاءِ الَّتِي سَبَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ مِنْ غَيْرِهِمْ، فَقَالُوا فِيهِمْ: بِالرَّأْيِ فَأَضَلُّوهُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
عروہ بن زبیر نے کہا: بنی اسرائیل میں اعتدال قائم تھا اور کوئی خلاف شرع بات ان میں نہ تھی، پھر جب نئی نسل اور دیگر اقوام کے قیدی اور لونڈیوں کی پود آئی تو انہوں نے (دین میں) اپنی رائے داخل کر دی اور انہیں گمراہ کر دیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 122]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 122] »
اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1774] ، [المعرفة والتاريخ للفسوي 93/3]
وضاحت
(تشریح حدیث 121)
اس روایت سے رائے اور قیاس کی مذمت ظاہر ہوتی ہے جو یقیناً گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
الحكم: إسناده جيد