مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ، وَيُقِلُّ اللَّغْوَ، وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ، وَيُقْصِرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ وَلَا يَسْتَنْكِفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُمَا حَاجَتَهُمَا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ذکر (الٰہی) زیادہ کرتے اور بے مقصد باتیں کم کرتے تھے، نماز لمبی پڑھتے اور خطبہ مختصر دیتے، نہ برا کہتے اور نہ گھمنڈ کرتے، بیوہ اور مسکین کے ساتھ چلتے اور ان کی ضرورت و حاجت پوری فرماتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 75]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 75] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کی متابعت موجود ہے اور اس کو امام نسائی نے [السنن الكبرى 1716] میں اور بیہقی نے [شعب الايمان 8114] میں ذکر کیا ہے اور [صحيح ابن حبان 6423] میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 75)
اس روایت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا ثابت ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں بھی ہے: «كَانَ يَذْكُرُ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ.» مسلم: (373)۔
بے مقصد باتیں کم کرنا۔
(یہ جملہ محل نظر ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بے مقصد گفتگو کبھی نہیں فرماتے تھے)۔
اس میں نماز لمبی اور خطبہ مختصر دینے کا ثبوت ہے۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اخلاقِ کریمانہ کی ایک جھلک ہے کہ بوڑھے اور غریبوں کے ساتھ چلنے میں عار نہ سمجھتے، بلکہ ان کی حاجت روائی فرماتے۔
الحكم: إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد