بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 95 — وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان حدیث 95
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، اللَّيْثُ ، خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ ، نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ ، كَعْبًا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ كَعْبٌ: "مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ، حَتَّى يَحُفُّوا بِقَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا، عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ، فَصَنَعُوا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ، خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ يَزِفُّونَهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
نبیہ بن وھب سے مروی ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر چل نکلا تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر دن ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں اور اپنے پروں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کو ڈھانپ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے رہتے ہیں، پھر جب شام ہو جاتی ہے تو وہ (آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں اور انہیں کی طرح دوسرے فرشتے آتے ہیں اور درود پڑھتے ہیں حتی کہ زمین شق ہو گی اور آپ ستر ہزار فرشتوں کو ہٹاتے ہوئے قبر سے نمودار ہوں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 95]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الأولى ضعف عبد الله بن صالح فهو سيئ الحفظ جدا وكانت فيه غفلة والانقطاع أيضا فإن نبيه بن وهب لم يدرك كعبا، [مكتبه الشامله نمبر: 95] »
اس کی سند میں دو علتیں ہیں، ایک تو راوی عبداللہ بن صالح ضعیف ہے، دوسرے اس کی سند میں انقطاع ہے۔ اس کو سخاوی نے [القول البديع ص: 48] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 94)
یہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو نہ مرفوع ہے اور نہ صحیح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فضیلت کے لئے احادیثِ صحیحہ کا ذخیرہ موجود ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سید الانبیاء والمرسلین ہونا، تمام نبیوں کی امامت کرنا، وغیرہ وغیرہ۔
الحكم: في إسناده علتان: الأولى ضعف عبد الله بن صالح فهو سيئ الحفظ جدا وكانت فيه غفلة والانقطاع أيضا فإن نبيه بن وهب لم يدرك كعبا
← پچھلی حدیث (94) باب پر واپس اگلی حدیث (96) →