بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 93 — وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان حدیث 93
أَبُو النُّعْمَانِ ، سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ ، أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "قَحَطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطًا شَدِيدًا، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْعَلُوا مِنْهُ كُوَوًا إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ: فَفَعَلُوا، فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنْ الشَّحْمِ، فَسُمِّيَ عَامَ الْفَتْقِ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالجوزاء اوس بن عبداللہ نے بیان کیا: اہل مدینہ بہت سخت قحط سالی کے شکار ہوئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت لے کر آئے، انہوں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر میں آسمان کی طرف ایسا روشندان بناؤ کہ آسمان اور قبر کے درمیان چھت حائل نہ ہو۔ راوی نے کہا: لوگوں کا ایسا کرنا تھا کہ اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اگ آئی، اونٹ فربہ ہو کر چربی سے پھٹنے لگے اور اس سال کا نام ہی پھٹنے والا سال پڑ گیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 93]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة، [مكتبه الشامله نمبر: 93] »
اس روایت کو امام دارمی کے علاوہ کسی محدث نے روایت نہیں کیا۔ اس کے رواة ثقات ہیں لیکن موقوف ہے۔
الحكم: رجاله ثقات وهو موقوف على عائشة
← پچھلی حدیث (92) باب پر واپس اگلی حدیث (94) →