بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 91 — نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان حدیث 91
الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيِّ ، أَبِي قُرَّةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مَوْلَى أَبِي جَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ لَمَّا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ {1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} سورة النصر آية 1-2، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَخْرُجُنَّ مِنْهُ أَفْوَاجًا كَمَا دَخَلُوهُ أَفْوَاجًا".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کیا کہ یہ سورة « ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ٭ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴾ » (النصر: 1،2/110) جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہ جس طرح فوج در فوج لوگ اس (دین میں) داخل ہوئے ہیں اسی طرح یقیناً فوج در فوج نکل بھی جائیں گے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 91]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 91] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے [امام حاكم 496/4] نے روایت کیا اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 90)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشین گوئی جو مرورِ زمانہ میں ثابت ہوتی رہی ہے، کتنے فرقے قدریہ، معتزلہ، رافضہ، باطنیہ، منکرینِ حدیث، خوارج ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جو دین سے اسی طرح فوج در فوج نکل گئے، لہٰذا دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے، ان کو رواج دینے، اور ایسے برے عمل سے بچنا اور ہوشیار رہنا چاہے۔
«﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے، یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
الحكم: لم يحكم عليه المحقق
← پچھلی حدیث (90) باب پر واپس اگلی حدیث (92) →