يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، شَرِيكٍ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْحَارِثِ ، عَلِيٍّ
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمَرْأَةِ "يَكُونُ حَيْضُهَا سِتَّةَ أَيَّامٍ، أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ تَرَى كُدْرَةً أَوْ صُفْرَةً، أَوْ تَرَى الْقَطْرَةَ أَوْ الْقَطْرَتَيْنِ مِنْ الدَّمِ، أَنَّ ذَلِكَ بَاطِلٌ وَلَا يَضُرُّهَا شَيْءٌ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسی عورت کے بارے میں مروی ہے جس کی مدت حیض چھ یا سات دن ہو، پھر وہ صفرہ یا کدرہ یا ایک قطره یا دو قطرے خون کے دیکھے تو یہ بے کار ہے اور اس میں کوئی مضرت نہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 899]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف شريك متأخر السماع من أبي إسحاق، [مكتبه الشامله نمبر: 903] »
اس اثر کی سند ضعیف ہے، کیونکہ شریک کا سماع ابواسحاق سے بہت تاخیر سے ہوا۔ نیز دیکھئے: اثر رقم (894)۔
الحكم: إسناده ضعيف شريك متأخر السماع من أبي إسحاق