عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "شَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ، كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَوْتِهِ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ، وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے میں حاضر تھا، کوئی دن اتنا روشن اس دن سے اچھا نہیں تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور میں آپ کی وفات کے دن بھی حاضر تھا، اس دن سے زیادہ برا اور تاریک دن کوئی نہیں دیکھا جس دن میں آپ کی موت واقع ہوئی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 89]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 89] »
اس روایت کی اسناد صحیح ہے اور اسے [ابويعلى 3296] اور [ابن حبان 6634] نے روایت کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح احادیث 87 سے 89)
اس روایت سے:
رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدومِ مبارک سے مدینہ منورہ کا روشن و منور ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے سناٹا، ویرانی اور تاریکی کا وقوع پذیر ہونا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی مرسل اور مقرب الی اللہ ہونے کی دلیل ہے۔
اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ یہ کرامات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
الحكم: إسناده صحيح